پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اے آئی کلاؤڈ پلیٹ فارمز اب نہ صرف کاروباری اداروں بلکہ سرکاری شعبے میں بھی اپنا مقام بنانے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج
مقامی طور پر لانچ کیے گئے سوورِن کلاؤڈ سروسز اداروں کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنا حساس ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رکھیں، بجائے اس کے کہ وہ بیرون ملک کلاؤڈ سروسز پر انحصار کریں۔ اس اقدام کو ملکی ڈیٹا خودمختاری اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اے آئی کلاؤڈ پلیٹ فارم کو ماہرین ایک مثبت قدم قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ ملکی سطح پر ڈیٹا اسٹوریج اور پروسیسنگ کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس سے صارفین کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول ملے گا، میسم رضا
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اے آئی ایکسپرٹ میسم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے آئی کلاؤڈ پلیٹ فارم کا آغاز ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ یہ نہ صرف ملکی سطح پر ڈیٹا اسٹوریج کے مواقع فراہم کرتا ہے بلکہ اداروں اور صارفین کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول اور خودمختاری بھی دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم جدید انکرپشن، ملٹی لیئر سیکیورٹی اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے نظام پر مبنی ہے جو ڈیٹا کی حفاظت اور غیر مجاز رسائی کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کلاؤڈ کی بدولت ادارے اپنے ڈیٹا کے پروسیسنگ، تجزیے اور اسٹوریج کے کاموں کو ملکی سطح پر انجام دے سکتے ہیں جس سے بیرونی ڈیٹا انحصار کم ہوتا ہے اور قومی خودمختاری کو فروغ ملتا ہے۔
مزید پڑھیے: اسرائیلی فوج کو اے آئی اور کلاؤڈ سروسز دینے کے خلاف مائیکروسافٹ کے احتجاجی ملازمین نوکری سے برخاست
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹیکنالوجی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہی ہے جہاں وہ اپنی اے آئی اپلیکیشنز اور ڈیجیٹل سروسز محفوظ طریقے سے لانچ کر سکتے ہیں۔
اس پلیٹ فارم میں جدید انکرپشن پروٹوکولز اور ملٹی لیئر سیکیورٹی کے اصول شامل ہیں، اطہر عبدالجبار
سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ اطہر عبدالجبار کہتے ہیں کہ اس پلیٹ فارم میں جدید انکرپشن پروٹوکولز اور ملٹی لیئر سیکیورٹی کے اصول شامل ہیں جو ڈیٹا کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی معنوں میں ڈیٹا کی حفاظت صرف تکنیکی سیکیورٹی پر منحصر نہیں بلکہ انتظامی طریقہ کار، ملازمین کی تربیت اور ڈیٹا رسائی کی واضح پالیسیوں پر بھی انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ نظام شفاف اور مؤثر طریقے سے نافذ نہ کیا گیا تو ڈیٹا لیک یا غیر قانونی رسائی کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر: گڑبڑ کے پیچھے کلاؤڈ فلیئر، یہ ہے کیا؟
اطہر عبدالجبار کے مطابق اے آئی کلاؤڈ صارفین اور اداروں کو ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے لیکن اس کنٹرول کی مؤثریت اس وقت برقرار رہے گی جب قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک مضبوط ہو۔
انہوں نے کہا کہ چیلنجز میں ڈیٹا کی ملکیت، کلاؤڈ فراہم کنندگان کی ذمہ داریاں اور غیر متوقع استعمال کو روکنے کے طریقے شامل ہیں۔
کلاؤڈ ملک کی ڈیجیٹل ترقی اور ڈیٹا خودمختاری میں نمایاں کردار ادا کرے گا، ماہرین
ماہرین کا مؤقف یہ ہے کہ شفاف پالیسیوں، مضبوط قوانین اور مؤثر نگرانی کے ساتھ، کلاؤڈ پاکستانی صارفین اور اداروں کے لیے ایک محفوظ، قابل بھروسہ اور طویل مدتی ڈیجیٹل حل فراہم کر سکتا ہے جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی اور ڈیٹا خودمختاری میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ تاہم اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو صارفین کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور کلاؤڈ کی افادیت محدود رہ جائے گی اس لیے ٹیکنالوجی کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے شفافیت اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گارجیئن رپورٹ: اسرائیل مکروہ ہتھکنڈوں کے لیے گوگل اور ایمیزون کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟
یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے رواں برس ‘نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس’ پالیسی منظور کی تھی جس کے تحت سنہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 35 سے 40 لاکھ نوکریوں کا اضافہ ہو یا اے آئی کی مدد سے جی ڈی پی میں 7سے 12 فیصد تک کا متوقع اضافہ، یہ وہ چند بڑے اور ‘پُرعزم’ اہداف ہیں جن کا اعلان پاکستانی حکومت نے اس پالیسی کے تحت کیا تھا۔














