امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں یکطرفہ حملہ آور ڈرونز کی تعیناتی کے لیے ایک نئی ٹاسک فورس قائم کرکے فعال کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمیڈ (سینٹ کام) نے بدھ کے روز اس اقدام کا باضابطہ اعلان کیا۔
یہ نئی فورس ٹاسک فورس اسکورپین اسٹرائیک (TFSS) امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کی اس ہدایت کے بعد تشکیل دی گئی ہے جس میں خطے میں سرگرم امریکی افواج کے لیے کم لاگت اور زیادہ مؤثر ڈرون صلاحیتیں فوری طور پر فراہم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل
یہ قدم اس پس منظر میں بھی اٹھایا گیا ہے کہ خطے میں ایران نواز گروہوں کی جانب سے عراق، شام اور دیگر مقامات پر امریکی افواج پر سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک حملے میں امریکی اہلکار بھی ہلاک ہوا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق TFSS کا مقصد امریکی اہلکاروں کو جدید ترین بغیر پائلٹ کے نظام (انوینڈ سسٹمز) سے تیزی سے لیس کرنا ہے تاکہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکی فوج نے ٹاسک فورس کے حصے کے طور پر کم لاگت والے ’لوکس‘ (LUCAS) ڈرونز پہلے ہی تعینات کر دیے ہیں۔ یہ ڈرونز طویل فاصلے تک خودکار پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کیٹاپلٹ، راکٹ اسسٹڈ ٹیک آف، موبائل گراؤنڈ پلیٹ فارمز اور گاڑیوں سمیت مختلف طریقوں سے لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا اور بحرین کا مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ پوسٹ کا افتتاح
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ’ہمارے ماہر اہلکاروں کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے فراہم کرنا امریکی فوج کی جدت اور قوت کا اظہار ہے، جو خطے میں تخریبی عناصر کے لیے واضح پیغام ہے۔‘
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عسکری ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ڈرون ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی انحصار کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔














