امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی اہم تنصیبات پر ایران سے منسلک ریاستی سرپرستی میں کیے جانے والے سائبر حملوں میں ملوث افراد کی معلومات فراہم کرنے والوں کو 1 کروڑ ڈالر (10 ملین) تک کا انعام دے گا۔ یہ انعام امریکی محکمۂ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت رکھا گیا ہے۔
انعام اس شخص یا گروہ پر لاگو ہوتا ہے جو کسی غیر ملکی حکومت کی ہدایات یا اس کے زیرِ اثر رہ کر کمپیوٹر فراڈ اینڈ ابیوز ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی اہم تنصیبات کے خلاف بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں شریک ہو۔
مزید پڑھیں: چین کا امریکا پر قومی ٹائم سروس سینٹر پر سائبر حملوں کا الزام
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے مرکز میں موجود نیٹ ورک ’شہید شُشتَری‘ ہے، جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سائبر الیکٹرانک کمانڈ (IRGC-CEC) کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ نیٹ ورک متعدد ناموں سے سرگرم رہا ہے، جن میں آریا سپہر آیندہ سازان (ASA)، آیندہ سازان سپهر آریا (ASSA)، امنّت پاسارگاد، ایلیانت گستَر، اور نیٹ پیگرد سماوات کمپنی شامل ہیں۔
امریکی بیان کے مطابق شہید شُشتَری نیٹ ورک نے مربوط سائبر حملوں اور معلوماتی مہمات کے ذریعے امریکی کاروباری اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کو بھاری مالی نقصان اور عملی نظام میں خلل پہنچایا۔ ان کے اہداف میں میڈیا، شپنگ، ٹریول، توانائی، مالیات اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسے اہم شعبے شامل رہے، جبکہ ان کی سرگرمیاں امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس گروہ کی نگرانی محمد باقر شیرینکار کرتے ہیں، جبکہ فاطمہ صدیقیان کاشی طویل عرصے سے اس سے وابستہ ہیں اور منصوبہ بندی و آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ دونوں باہم “قریبی تعلق” رکھتے ہیں اور مشترکہ طور پر سائبر سرگرمیوں کی قیادت کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: یورپ کے فضائی سلامتی کے نظام پر سائبر حملوں نے کی کمزرویاں بے نقاب کر دیں
شہید شُشتَری گروہ نے امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے دوران بھی ایک وسیع سائبر مہم چلائی تھی، جس میں معلوماتی حملے اور فالس فلیگ سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس سے قبل بھی گروہ اسی نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہ چکا تھا جس کا مقصد عوامی رائے پر اثرانداز ہونا اور نظام میں خلل ڈالنا تھا۔
نومبر 2021 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اس گروہ جو اُس وقت ’امنّت‘ (Emennet) کے نام سے کام کر رہا تھا، کو اس کے 6 ملازمین سمیت صدارتی حکم نامہ 13848 کے تحت بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
اسی دوران ریوارڈز فار جسٹس نے اس مداخلت میں کردار ادا کرنے والے 2 سائبر عناصر سید محمد حسین موسیٰ کاظمی اور سجاد کاشیان کو بھی نمایاں طور پر شناخت کیا تھا۔














