این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جینسن ہوانگ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں انسان کی تخلیق کردہ معلومات کے مستقبل کے بارے میں ایک حیرت انگیز پیشگوئی کی ہے۔
ہوانگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی بہت جلد انسانی ذہن اور شعور سے آگے نکل جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انسان اور مشین کا اشتراک: مصنوعی ذہانت تخلیقی شراکت دار بھی بن گئی
پوڈکاسٹ میں میزبان جو روجان نے ہوانگ سے انسانی شعور کی نقل کرنے والی مشین بنانے کے بارے میں سوال کیا۔ ہوانگ نے جواب دیا کہ یہ ممکن ہے کہ ہم ایسی مشین بنائیں جو انسانی ذہانت کی نقل کرے، معلومات کو سمجھ سکے، ہدایات پر عمل کرے، مسائل کو توڑے اور حل کرے اور مختلف کام انجام دے سکے۔ میں اس پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ہم ایک ایسا کمپیوٹر بنا سکتے ہیں جس میں بے شمار علم موجود ہو جس میں کچھ حقائق پر مبنی ہوں اور کچھ نہیں۔
ہوانگ کے مطابق اب تک انسان ہی علم کو استعمال اور منتقل کرتے رہے ہیں لیکن مستقبل قریب میں انسانی علم پرانا اور غیر ضروری ہو جائے گا۔
مزید پڑھیے: چین میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کمالات: بزرگوں کی خدمت گار، نابیناؤں کی ’آنکھ‘، اور بہت کچھ!
ہوانگ کا کہنا ہے کہ شاید 2 یا 3 سال میں دنیا کے 90 فیصد علم کی تخلیق مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہوگی۔
مزید پڑھیں: اب اے آئی ہڈی کے فریکچر کی تشخیص بھی کرے گی، یہ ایکس رے مشین سے مخلتف کیسے؟
روجان کی حیرت پر ہوانگ نے اے آئی کی پیدا کردہ معلومات کو استعمال کرنے کا فرق واضح کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے لیے اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ میں کسی نصابی کتاب سے سیکھ رہا ہوں جسے کچھ ایسے لوگوں نے تیار کیا جنہیں میں جانتا بھی نہیں یا اے آئی کمپیوٹرز نے یہ علم اکٹھا کر کے دوبارہ ترتیب دیا میرے لیے یہ فرق زیادہ معنی نہیں رکھتا۔
اس کے باوجود ہوانگ نے انسانی کردار کی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا۔ 62 سالہ سی ای او کے مطابق انسانی تصدیق ابھی بھی ضروری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: ارب پتی بن جانے والا اے آئی چیٹ بوٹ اب خود کو انسان قرار دلوانے کا خواہاں!
ہوانگ نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ علم بنیادی اصولوں پر مبنی ہو اور ہمیں وہ سب کرنا ہوگا جو ہم آج کرتے ہیں۔














