سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ نے دیوانی مقدمات میں کورٹس فیس میں اضافے کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد بار کونسل سمیت دیگر بار کونسلز کو نوٹس جاری کیے اور اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسے عدالت نے سنجیدہ کیس قرار دیتے ہوئے مزید التوا دینے سے انکار کیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: الیکشن التوا کیس کی سماعت مکمل: فیصلہ محفوظ ، آج سنایا جائے گا
سماعت کے دوران جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ملک میں بہت سے لوگ غریب ہیں اور وہ ملکی نظام انصاف برداشت نہیں کر سکتے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ایاز سواتی نے بتایا کہ ان کے صوبے میں فوجداری مقدمات کی کورٹ فیس نہیں لی جاتی۔ جسٹس عقیل عباسی نے مزید کہا کہ سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور انصاف دین اسلام کی بنیاد ہے، جس پر ریونیو نہیں کمایا جا سکتا۔
جسٹس شاہد وحید نے وکلا کو ہدایت کی کہ کیس کو ہلکا نہ لیں اور یاد دلایا کہ شریعت اپیلیٹ بینچ اب سپریم کورٹ کا ریگولر فیچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں میں اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس، اعلامیہ جاری
سماعت کے دوران آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کا ذکر بھی آیا، تاہم جسٹس شاہد وحید نے واضح کیا کہ بینچ صرف اس کیس کی حدود میں رہ کر سماعت کرے گا۔














