پی ٹی آئی کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایک من گھڑت اور گمراہ کن خبر بڑے پیمانے پر شیئر کرنا شروع کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی کانگریس کے 44 ڈیموکریٹس نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو خط لکھ کر پاکستانی سینئر حکام پر فوری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور مبالغہ آمیز تشریح ہے، جسے سیاسی مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: روس: آئی ایس آئی کے جاسوسی نیٹ ورک کی گرفتاری کے بھارتی دعوے بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار
پی ٹی آئی اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جانے والی اس خبر میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک کانگریس ویمن پریملا جے پال اور کانگریس مین گریگ کاسار کی قیادت میں بھیجے گئے خط پر الہام عمر اور رشیدہ طالب سمیت 44 ارکان کے دستخط موجود ہیں، جنہوں نے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بیرون ملک مخالفین کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ خط نہ کوئی سرکاری امریکی مؤقف ہے، نہ ہی امریکی حکومت اس کو پالیسی دستاویز کے طور پر دیکھتی ہے۔ مذکورہ خط چند ارکانِ کانگریس کی انفرادی رائے پر مبنی ہے، جسے پی ٹی آئی سوشل میڈیا نیٹ ورکس غلط طور پر ’امریکی کانگریس کا مطالبہ‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
اسی گمراہ کن خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ خط میں پاکستان کے حکام پر ویزا پابندیوں، اثاثوں کے منجمد کیے جانے اور ٹارگٹڈ اقدامات کی سفارش کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ پاکستانی ریاست سیاسی مخالفین کو دباتی ہے۔
مزید پڑھیں: مودی کی لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر تقریر جھوٹ کا پلندہ قرار، عالمی میڈیا
امریکی حکام نے اس بیانیے کو بھی سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ کے پاس اس خط کی بنیاد پر کوئی عملی اقدام کرنے کا قانونی یا سفارتی جواز نہیں۔
مزید برآں پی ٹی آئی اکاؤنٹس یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی اداروں نے پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کو ’غیر شفاف‘ قرار دیا تھا، حالانکہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط تشریح کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
خط میں شامل سوالات اور شقوں کو پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے ایسے پیش کیا گویا یہ کسی باضابطہ امریکی کارروائی کا آغاز ہو، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خطوط امریکی کانگریس میں روزانہ درجنوں کی تعداد میں آتے ہیں اور اکثر ان کا کوئی سرکاری اثر یا پالیسی وزن نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: مودی کی لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر تقریر جھوٹ کا پلندہ قرار، عالمی میڈیا
پی ٹی آئی اکاؤنٹس نے اسے عمران خان کی رہائی کے مطالبے اور پاکستان پر ممکنہ عالمی پابندیوں کے طور پر پیش کیا، جسے امریکی حکام نے غلط، غیر مصدقہ اور سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا۔
مبصرین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارتی مودی میڈیا کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقعر روزنامہ ’ڈان‘ بھی اس پروپینگنڈے کا حصہ بنا، اور بنا کسی تصدیق کے خبر کو اپنی اشاعت اور ویب سائیٹ کا حصہ بنایا۔














