بھارت میں فون لوکیشن نگرانی بڑھانے کی تجویز پر شدید بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ ایپل، گوگل اور سام سنگ نے حکومت کے منصوبے پر سخت اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ حکومت اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے جس کے تحت اسمارٹ فونز میں سیٹلائٹ لوکیشن ٹریکنگ مستقل طور پر فعال رکھنے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’جن طیاروں کی پوجا لیموں اور مرچ سے کی گئی تھی، وہ کہاں گئے‘؟ بھارتی لوک سبھا میں ہنگامہ
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تجویز ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جس کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں حکام کو تفتیش کے دوران درست مقام کی معلومات حاصل نہیں ہوتیں اور سیلولر ٹاور ڈیٹا کئی میٹر تک غلط ہوسکتا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اے جی پی ایس ٹیکنالوجی کو لازمی طور پر ہر فون میں ہمیشہ فعال رکھا جائے تاکہ حکام ایک میٹر تک درست مقام حاصل کرسکیں۔
تاہم ایپل، گوگل اور سام سنگ نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیا ہے کہ صارفین کی مرضی کے بغیر مستقل لوکیشن آن رکھوانا دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں اور یہ اقدام نجی زندگی میں غیرمعمولی مداخلت ہوگا۔ ان کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم آئی سی ای اے نے خفیہ خط میں خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ قانونی، پرائیویسی اور نیشنل سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی حدود کی بندش: بھارتی ایئرلائنز کی 800 سے زائد پروازیں متاثر، تاشقند اور الماتی پرواز معطل
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب بھارتی حکومت کو حالیہ عوامی ردعمل کے بعد ایک حکم واپس لینا پڑا، جس کے مطابق اسمارٹ فون کمپنیوں کو ایک سرکاری سائبر سیفٹی ایپ لازمی طور پر ہر فون میں پہلے سے انسٹال کرنا تھا۔ سیاسی جماعتوں اور کارکنوں نے اسے ممکنہ نگرانی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اے جی پی ایس کو مستقل فعال رکھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر اسمارٹ فون ایک نگرانی کرنے والا آلہ بن جائے گا۔ برطانیہ کے ادارے آئی ای ٹی سے منسلک ڈیجیٹل فورینزک ماہر جنید علی نے کہا کہ ایسا کوئی ماڈل دنیا میں کہیں نافذ نہیں۔ امریکی ادارے الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے ماہر کوپر کوئنٹن نے اسے خوفناک قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: جنسی جرائم پر سزا پانے والوں میں بھارتی شہری سب سے آگے، رپورٹ میں انکشاف
بھارت میں اس وقت 735 ملین اسمارٹ فونز استعمال ہورہے ہیں جن میں 95 فی صد سے زائد گوگل کے اینڈرائیڈ پر چلتے ہیں۔ ان کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مسلسل ٹریکنگ کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں، ججوں، صحافیوں اور حساس اداروں میں کام کرنے والے افراد کی سیکیورٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے اپنے مؤقف میں یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ نظام میں جب حکام کسی صارف کی لوکیشن تک رسائی لیتے ہیں تو فون میں ایک پاپ اپ میسج ظاہر ہوتا ہے جس سے ہدف کو علم ہو جاتا ہے کہ اسے ٹریک کیا جا رہا ہے، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے مسئلہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیچر کو بھی ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کے جبر کے خلاف لداخ میں عوامی بغاوت شدت اختیار کر گئی
تاہم ایپل اور گوگل کی تنظیم نے سختی سے کہا ہے کہ پرائیویسی کو ترجیح دی جانی چاہیے اور ایسے حفاظتی پاپ اپ ختم کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
بھارتی وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی نے ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح پالیسی فیصلہ نہیں دیا اور نہ ہی رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب دیا ہے۔














