وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف مرکز نظام میں تبدیل کررہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی اصلاحات چند ہفتوں میں سامنے آجائیں گی۔
لمز یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی صاف اور ماحول دوست ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ ملک میں شمسی توانائی کی تیز رفتار ترقی عالمی سطح پر مثال بن چکی ہے۔ عوام نے اپنے طور پر 50 گیگا واٹ تک کے سولر پینلز نصب کیے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
مزید پڑھیں: سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی، پاور ڈویژن اور سولر صارفین کا اس پر کیا مؤقف ہے؟
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک کی 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے حاصل کی جارہی ہے، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری اور سرکلر ڈیٹ میں کمی حکومتی ایجنڈے کے اہم حصے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک کم اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ایشیا توانائی کے عالمی منظرنامے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا کی قریباً نصف انرجی کھپت اسی خطے میں ہوتی ہے۔ پاکستان نے 17 گیگا واٹ کے سولر پینل درآمد کرکے تیزی سے بڑھتی ہوئی ایشیائی شمسی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کو سولرائز کر کے پانی اور توانائی کے بحران میں واضح کمی لائی جا رہی ہے۔
اویس لغاری کے مطابق ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ ایپ نے صارفین کو مکمل اختیار فراہم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کا سبز ذرائع کی طرف سفر پاکستان کے لیے ماحول اور معیشت دونوں اعتبار سے ناگزیر ہے، حالانکہ ملک کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر خطرات کے لحاظ سے یہ ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی سفارتکاری تیزی سے بدل رہی ہے اور اس میں ایشیا کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ خطے میں سالانہ 300 ارب ڈالر کے قریب موسمیاتی نقصانات درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایشیا 900 فیصد اضافے کے ساتھ دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔
مزید پڑھیں: نئی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، جلد اعلان ہوگا: وزیر توانائی لغاری
ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی اصلاحات چند ہفتوں میں سامنے آجائیں گی، جبکہ ’سی ٹی بی ایم سی‘ پالیسی منظوری کے لیے ارسال کردی گئی ہے اور اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں نافذ ہو جائے گی۔














