وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کرنے والے باہر آکر ریاست مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ اب جیل کے باہر مجمع لگانے کی اجازت بھی نہیں دی جائےگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملاقاتوں کا مطلب حال احوال پوچھنا اور کیسز کے حوالے سے قانونی معاملات ڈسکس کرنا ہوتا ہے، جو یہ نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا
انہوں نے کہاکہ اب جو بھی جیل کے باہر مجمع لگانے آئے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بالکل درست باتیں کیں، ہم ان کی توثیق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اگر اڈیالہ جیل آئے تو ان کو پہلے ناکے سے ہی واپس جانے کا کہا جائےگا، وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، اگر وقت کے ساتھ پی ٹی آئی کے رویے میں بہتری آئی تو عمران خان سے ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک پی ٹی آئی اپنا ریاست مخالف بیانیہ ترک نہیں کرتی تب تک ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ بیانات ملکی سلامتی کے منافی ہیں، خواجہ آصف
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کل پی ٹی آئی کے دو رہنماؤں نے بیرون ملک جانے کی کوشش کی، جن کے نام نو فلائی لسٹ میں تھے۔













