مشہور پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے 100 دن کی خاموشی کے بعد آج اپنے فالوورز سے خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈکی بھائی، جو حال ہی میں غیر قانونی بڈنگ ایپس کے فروغ کے الزامات کے تحت جیل میں قید تھے، اب ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: یوٹیوبر ڈکی بھائی جیل سے رہا، آن لائن سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت
ڈکی بھائی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ‘100 دن۔ صفر الفاظ۔ آج، اتوار، شام 6 بجے یوٹیوب پر میں اپنی خاموشی توڑ رہا ہوں۔ اور انٹرنیٹ یہ کبھی نہیں بھولے گا۔’
100 days. Zero words. Today, Sunday, 6PM on YouTube, I break my silence. And the internet won’t forget this.
— Ducky Bhai (@duckybhai) December 6, 2025
ان کے فالوورز اور سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جس میں ان کی واپسی اور طویل قانونی جدوجہد کے بعد انکشافات متوقع ہیں۔
ڈکی بھائی پر مقدمہ، رہائی اور تفتیشی افسران کی گرفتاری
ابتدائی طور پر یوٹیوبر کو 17 اگست کو لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا، ان پر اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس جوا ایپ کی تشہیر کا الزام تھا جس کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) حکام نے رسمی تفتیش کا آغاز کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی ایپ کی تشہیر کیس: لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت منظور کرلی
تاہم بعد میں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ڈکی بھائی کو ضمانت پر فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
ڈکی بھائی کی رہائی سے قبل ان کے مقدمے سے وابستہ این سی سی آئی اے کے 7 افسران خود گرفتار ہوئے اور اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، ایجنسی کے ذرائع کے مطابق ان افسران پر ڈکی بھائی اور کئی کالز سینٹر سے بڑے پیمانے پر رشوت لینے کا الزام تھا۔
مزید پڑھیے: منظم گینگ بن کر بدعنوانی کرنے کے الزامات میں این سی سی آئی اے افسران کی گرفتاریاں
گرفتار افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز مجتبیٰ ظفر، شعیب ریاض، محمد عثمان اور سب انسپکٹرز یاسر رمضان اور علی رضا شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے افسران پر کرپشن، غیر قانونی مالی لین دین اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں جن میں یوٹیوبر ڈکی بھائی سے 90 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام بھی شامل ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے کے اہلکار ایک منظم گینگ کی صورت میں کال سینٹرز اور آن لائن فراڈ نیٹ ورکس سے رشوت لے کر ان کے خلاف کارروائیاں روک دیتے تھے۔














