بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کا پاکستان میں جدید ‘لڑاکا ڈرون’ تیار کرنے کی فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا۔
منصوبے کا مقصد اور دائرہ کار
اس فیکٹری میں ترکیہ کے بنائے گئے اسٹیلتھ اور طویل پرواز (long-endurance) ڈرونز کو تیار کیا جائے گا۔
منصوبہ ترک دفاعی صنعت کی عالمی توسیع (defence exports) حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے ترکیہ کے جنگی ڈرون ’عنقا3‘ کی پہلی پرواز کامیابی سے مکمل
فیکٹری کے ذریعے پاکستان کو اعلیٰ درجے کی دفاعی ٹیکنالوجی تک براہِ راست رسائی ملے گی، اور مستقبل میں ڈرون کی دیکھ بھال، مینٹیننس اور ممکنہ اپ گریڈیشن کا عمل آسان ہو جائے گا۔
دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کی تاریخ
ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون پرانی تاریخ رکھتا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی پاکستانی بحریہ کے لیے جنگی جہاز تعمیر کر رہا ہے۔ ترکیہ نے پاکستان کے F-16 طیاروں کو اپ گریڈ بھی کیا ہے۔
بائی کار اور ترکیہ کی معروف دفاعی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
متوقع اثرات اور دفاعی اہمیت
یہ فیکٹری قائم ہونے سے پاکستان نہ صرف اسلحہ درآمد کرنے والا ملک نہیں رہے گا بلکہ ایک فعال پیداواری اور مینٹیننس ہب بن جائے گا جس سے دفاعی خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔
ترکیہ کی دفاعی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حالیہ برسوں میں ان کی برآمدات نمایاں طور پر بڑھیں ہیں، اور یہ فیکٹری ان کی بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی کہانی
علاقائی دفاعی توازن کے تناظر میں بھی یہ قدم اہم ہے، خطے میں طویل فاصلے کے ڈرونز کے آپریشنل استعمال اور مستقل سپورٹ کو ممکن بنانا، پاکستان کی فضائی و دفاعی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔














