آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی؟

پیر 8 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج، پیر 8 دسمبر 2025 کو منعقد ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے۔

یہ رقم 2مختلف پروگرامز کے تحت جاری کی جائے گی، جن میں 1 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت دوسری جائزہ رپورٹ کی تکمیل پر جبکہ 20 کروڑ ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت دیے جائیں گے، جو قدرتی آفات سے بچاؤ اور پائیدار ترقی کے لیے ہیں۔

یہ پیش رفت اکتوبر میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ (SLA) طے پانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ قسط کی منظوری سے قبل پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ کرپشن اور گورننس ڈائیگناسٹک رپورٹ جاری کرنے سمیت دیگر شرائط پوری کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے آئی ایم ایف بورڈ کا آج اجلاس؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری متوقع

تجزیہ کار و سینئر صحافی تنویر ملک کا کہنا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے منصوبے کا حصہ ہے۔ 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے لیے اس سال ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ اکتوبر ہی کے مہینے میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے اسٹاف لیول معاہدہ طے کیا، جس کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر لی ہیں۔ اب 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو جائے گا۔

تنویر ملک کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، اہم بات یہ ہے کہ اسٹاف لیول معاہدہ ہو جائے، جو ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے مالیاتی نظم و ضبط میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے یہ بھی قرار دیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی پر اچھی گرفت رکھی ہے، جس کی بنا پر مہنگائی کو بڑھنے سے روکا گیا ہے۔ مزید یہ کہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نے سرکاری ملکیتی اداروں کی بہتری کے لیے بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

تنویر ملک کا مزید کہنا ہے کہ اس قسط سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور بین الاقوامی سطح پر ریٹنگ میں بھی بہتری آئے گی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی جگہ پر مستحکم رہے گا۔ لیکن اگر یہ پوچھا جائے کہ اس سے عوام کو کیا ریلیف ملے گا تو اس کا جواب ہے: کچھ بھی نہیں۔ دوسرا سوال: کیا معیشت بہتر ہو جائے گی؟ تو اس کا جواب بھی ہے: نہیں۔

مزید پڑھیں: عدلیہ کرپٹ ترین ادارہ، آئی ایم ایف کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ، رپورٹ 3 ماہ تک کیوں چھپائی گئی؟

تنویر ملک کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو کم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کہتا ہے آپ نے اپنے مالیاتی معاملات کے ساتھ ساتھ ایکسٹرنل اکاؤنٹ کو کنٹرول کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ آپ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے امپورٹس کو محدود رکھیں۔

معاشی ماہر شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ آج آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کا پیکج پاکستان کو ملنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر کام کیا ہے۔ پاکستان کو 1 ارب ڈالر الگ اور 20 کروڑ ڈالر الگ ملیں گے۔ اس امداد سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان ریفارمز لے کر آ رہا ہے، جس سے دنیا اور عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

شہریار بٹ کے مطابق پاکستان عنقریب پانڈہ بانڈز شروع کرنے والا ہے۔ پاکستان یورو بانڈ بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بہتری کی طرف گامزن ہے۔ اس سے قبل صورتِ حال یوں تھی کہ اسٹیٹ بینک کو مقامی سطح پر بینکوں کو دیکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ اب بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی ریٹنگ بہتر کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟