پنجاب اسمبلی میں پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کا بل پیش کر دیا گیا ہے، جس کی منظوری گورنر پنجاب پہلے ہی دے چکے ہیں۔
آرڈیننس کو 2 ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے اور کمیٹی کی سفارشات کے بعد اسمبلی سے منظوری ملنے پر یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
آرڈیننس کے مطابق پنجاب بھر میں پتنگ سازی، فروخت اور پتنگ بازی کے عمل کو باضابطہ قانونی دائرے میں لانے کے لیے سخت ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، بسنت منانے سے متعلق آرڈیننس جاری
صوبے میں پتنگ بنانے اور بیچنے والے تمام افراد اور کاروبار کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
پتنگ سازوں اور پتنگ باز تنظیموں کی رجسٹریشن کا اختیار ڈپٹی کمشنر کے پاس ہو گا۔
ضلع میں پتنگ بازی کی اجازت بھی ڈپٹی کمشنر ہی حکومت سے منظوری لے کر دیں گے۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، بسنت منانے سے متعلق آرڈیننس جاری
آرڈیننس کے تحت بغیر رجسٹریشن پتنگ یا ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں 5 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہے۔
ساتھ ہی دھاتی ڈور، تندی اور تیز مانجھے والی ڈور کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ممنوعہ ڈور بناتے یا فروخت کرتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: نواز شریف کی خواہش پر بسنت کا تہوار لاہور میں منایا جائے گا؟
آرڈیننس میں پولیس کو بھی خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں جن کے تحت سب انسپکٹر رینک کا افسر ممنوعہ مواد کی اطلاع ملنے پر بغیر وارنٹ گرفتاری اور تلاشی لے سکے گا۔
مزید یہ کہ جس ضلع میں پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی، وہاں حادثات کی روک تھام کے لیے بغیر حفاظتی اقدامات کے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہو گی۔
نئے آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس باقاعدہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صوبے میں پتنگ بازی کے قوانین ایک نئی شکل میں نافذ العمل ہوں گے۔














