گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون سے گریز کرے گی تو گورنر راج نافذ کرنا مجبوری بن جائے گا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیاکہ ایک شخص سزا یافتہ ہے اور اسے اپنی سزا بھگتنا ہوگی۔
مزید پڑھیں: ابھی گنجائش ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کی طرف نہ جائیں، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق سے مکمل تعاون کرنا چاہیے، کیونکہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے۔ اگر پی ٹی آئی تعاون کرنے سے انکار کرے تو گورنر راج کا نفاذ ایک ناگزیر قدم بن جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ اب فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ عوام اور نظام کے ذریعے ہوں گے، اور ہٹ دھرمی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کے مطابق اس بار اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں ہوگا، اور اگر ایسی کوئی کوشش ہوئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہاکہ جو شخص کبھی گورنر ہاؤس کا پیٹرول بند کرنے کی بات کرتا تھا، آج وہ منظر سے غائب ہے۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص نہ صرف پارٹی چلائے بلکہ ملک بھی چلائے، جبکہ عدالتوں نے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: بدمعاشی پر گورنر راج لگے گا، عمران خان کی اب سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، فیصل واوڈا
انہوں نے کہاکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، لیکن صوبائی حکومت آج بھی طالبان رجیم سے مذاکرات کی حامی ہے۔ جو لوگ ریاست کے خلاف بندوق اٹھا کر ہمیں اور ہمارے بچوں کو شہید کر رہے ہوں، اُن سے کیا بات چیت کی جائے؟۔












