پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے صوبے پہلے وہاں بنائے جائیں جہاں اتفاق رائے موجود ہے۔
مزید پڑھیں: کیا 28ویں ترمیم میں نئے صوبے بن سکیں گے؟
لاہور میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ قومی اسمبلی میں نئے صوبے بنانے کے لیے پہلے ہی کچھ علاقوں پر مشترکہ مؤقف موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 20 نئے صوبے بنانے کی بجائے پہلے ان علاقوں میں عملدرآمد کیا جائے جہاں اتفاق رائے ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے یاد دلایا کہ اس وقت پی پی پی کے پاس قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں تھی جب نئے صوبے بنانے پر فیصلہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اپنی تجاویز پر عمل درآمد جلد ہونا چاہیے اور جو کام طے تھا وہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: بھٹو کی پیپلز پارٹی کس ہاتھ میں ہے جو نئے صوبے بنانے کو غداری کہتی ہے؟ خالد مقبول صدیقی
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی خوبی یہ رہی ہے کہ ہم جمہوری اقدار کے ساتھ ساتھ ضروری اقدامات کے لیے گورنر راج کا اختیار بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔














