پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان غالب رہا، جہاں کاروبار کے آغاز ہی میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 170,000 کی سطح عبور کر گیا۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 170,171.82 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 715.44 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی اورآٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں خریداری کا رجحان غالب رہا۔
KSE100 Index crosses all time high of 170,000. PSX to new highs. pic.twitter.com/30no0Rf1za
— Fazal Nadeem (@fazalnadeem) December 10, 2025
انڈیکس میں وزن رکھنے والے بڑے اسٹاکس جیسے حبیب بینک، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، اوجی ڈی سی ایل، ماری پیٹرولیم، حبکو اور یونائیڈڈ بینک کے شیئرزبھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق یہ مثبت رجحان اس خبر کے بعد دیکھنے میں آیا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور ریسیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کے قریب اضافہ
گزشتہ ر وز یعنی منگل کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار رہا، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے شعبوں میں نئی پوزیشنز لینے کے نتیجے میں کاروباری سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 1,153.14 پوائنٹس یعنی 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 169,456.39 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی مارکیٹس میں بدھ کے روز ایشیائی حصص اور وال اسٹریٹ فیوچرز میں دباؤ دیکھنے میں آیا کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی منقسم پالیسی ٹیم کے اہم فیصلے کا وقت قریب ہے۔
دوسری جانب کارپوریٹ نتائج نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی بلند قیمتوں کو متأثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، آئی ایم ایف ادائیگی کی امید پر 500 پوائنٹس کا اضافہ
فیڈ کے فیصلے سے قبل زیادہ تر اثاثے ایک محدود رینج میں ٹریڈ کر رہے ہیں، جبکہ جاپانی کرنسی ’ین‘ کی اچانک گراوٹ اور چاندی کی مسلسل ریکارڈ توڑ بڑھوتری نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔
فیوچر مارکیٹ کو مکمل یقین ہے کہ فیڈ آج شرحِ سود میں 0.25 فیصد کمی کرکے اسے 3.50–3.75 فیصد کی حد میں لے آئے گا، جس کا امکان 89 فیصد ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تاہم یہ بھی توقع ہے کہ فیڈ مستقبل کی رہنمائی میں قدرے سخت مؤقف اپنائے گا، جس کے تحت جنوری میں مزید کمی کا امکان صرف 21 فیصد ہے۔
ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ ملا جلا افراطِ زر ڈیٹا سامنے آنے کے بعد چین کے بلیو چپ شیئرز 0.8 فیصد تک گر گئے۔














