اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور انہوں نے بارہا واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں اور اگر اپوزیشن چاہے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کے بیان کی تصحیح کردی
میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وہ بارہا مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں مگر ہمیں یہی جواب ملا کہ وہ فیلڈ مارشل سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جس فوج نے بھارت سے جنگ جیتی، ان کے خلاف زبان استعمال کی گئی اور پارلیمنٹ کے فلور کو عدلیہ مخالف بیانات کے لیے استعمال کیا گیا۔ سرحدوں کے محافظوں کے لیے بھی مخالفین نے ناپسندیدہ زبان استعمال کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے فلور پر عدلیہ اور فوج مخالف بیانات کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:میرا کام سہولت کاری ہے، فریقین فیصلہ خود کریں گے، اسپیکر قومی اسمبلی
اسپیکر نے مزید کہا کہ حزب اختلاف نے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی شاید ناممکن ہے۔ ایاز صادق نے بتایا کہ انہوں نے مذاکرات کے لیے 4 قدم بڑھائے، مگر اب انہیں 40 قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔
آخر میں اسپیکر نے کہا کہ پاکستان میں سب کچھ سیاست کے دائرے میں آتا ہے اور اگر اپوزیشن مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔












