پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنوں نے اپنے قائد سے ملاقات نہ کروائے جانے پر اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو دھرنا دیا تھا جس کو مذاکرات کی ناکامی کے بعد راولپنڈی پولس نے بالآخر واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے رات گئے ختم کرادیا۔
اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے ان کی 3 بہنیں اور پارٹی کے سینیئر رہنما منگل اور جمعرات کو اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں اور ملاقات نہ ہونے کے باعث پی ٹی ائی کارکنان و متعدد رہنماؤں سمیت اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آواز بلند کرنا ضروری، ورنہ سب کی باری آئے گی‘، علیمہ خان کی صحافیوں کیخلاف مقدمات پر تشویش
ماضی میں تو سیاسی رہنماؤں اور بہنوں سے عمران خان کی ملاقات کرا دی جاتی تھی لیکن گزشتہ ایک ماہ سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی اور صرف عمران خان کی ایک بہن نے ایک مرتبہ اس عرصے میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
گزشتہ روز عمران خان کی تینوں بہنیں کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی پہلے تو انہیں گورکھپور والے پولیس چوکی پر ہی روک دیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مزید اگے آنے دیا گیا اور اڈیالہ جیل سے پہلے موجود چوکی پر روک دیا گیا اس موقعے پر چند سو کارکنان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور 4 سے 5 رکن قومی اسمبلی بھی وہاں موجود تھے اور ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنوں نے اور کارکنان نے وہاں دھرنا دیے رکھا۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ: علیمہ خان کی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر
اڈیالہ جیل کے اطراف موجود میڈیا نمائندوں کے مطابق رات ایک بجے اس احتجاج میں سابق سینیٹر مشتاق احمد نے بھی شرکت کی تاہم 2 بجے پولیس کی جانب سے دھرنا دینے والے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس سے کارکنان کچھ دیر بعد منتشر ہو گئے اس دوران کارکنان کی جانب سے پولیس کی جانب پتھراؤ بھی کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی اس دھرنے میں موجود تھے، واٹر کینن کا استعمال شروع ہونے پر انہوں نے عمران خان کی بہنوں کو گھیرے رکھا اور کچھ فاصلے کے بعد وہ قریب موجود ایک نالے میں گر گئے جس سے ان کی ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔
اڈیالہ جیل کے باہر موجود عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کارکنان سے کہا کہ وہ گھبرائیں نہیں پانی سے زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف خیال سے چلیں کہ زیادہ پانی کے باعث کہیں کیچڑ میں پھسل نہ جائیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا جاری، پولیس کے علیمہ خان سے مذاکرات
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارے بھائی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی اور ایک ظلم شروع ہے لیکن یہ ہمیشہ جاری نہیں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان متعدد بار کہ چکے ہیں کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں اور یہ لوگ ہم سے ڈرے ہوئے ہیں۔














