لاہور میں بسنت کا 3 روزہ تہوار 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری کی تصدیق

بدھ 10 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب حکومت نے 18 سال بعد تاریخی بسنت میلے پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں 3 روزہ بسنت فیسٹیول 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ یہ فیسٹیول مکمل طور پر محفوظ، منظم اور سخت نگرانی میں ہوگا، جبکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان کو روکنے کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس، اب تیوہار مکمل طور پر محفوظ ہوگا

پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور بھر میں 25 سال بعد بسنت کے تاریخی و ثقافتی تہوار کے احیا کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے مطابق یہ روایت اپنی تاریخی جڑوں کی وجہ سے دنیا بھر میں سراہي جاتی رہی ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر شہر بھر میں موٹر سائیکلوں پر حفاظتی اینٹینا نصب کرنے کی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے، اور بسنت سے قبل اور اس کے دوران لاہور کی ہر موٹر سائیکل پر حفاظتی اینٹینا نصب ہونا لازمی ہوگا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچاؤ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔

گزشتہ ہفتے پنجاب حکومت نے ’پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025‘ کے ذریعے بسنت کی تقریبات پر سے پابندی اٹھائی تھی۔ اس آرڈیننس کے تحت سب انسپکٹر کے عہدے سے اوپر کے پولیس افسران کو قابلِ اعتماد اطلاع پر بغیر وارنٹ گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ آرڈیننس کو باقاعدہ قانون سازی کے لیے پنجاب اسمبلی میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیوالی کا تہوار، وزیراعظم کی جانب سے خصوصی مبارکباد

تاریخی طور پر بسنت کا تہوار بہار، خوشحالی اور آئندہ فصلوں کی بہتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 19ویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بسنت کو باقاعدہ میلے کی صورت دی اور پتنگ بازی کو اس کا مستقل حصہ بنایا، جس کے بعد لاہور بسنت کا مرکزی گڑھ بن گیا۔ وقت کے ساتھ یہ تہوار پنجاب کے دیگر حصوں اور ملک کے مختلف علاقوں میں بھی منایا جانے لگا۔

واضح رہے کہ بسنت پر 2007 میں پابندی عائد کی گئی تھی، جس کی وجہ دھاتی اور شیشے لگی ڈور سے ہونے والے حادثات، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں اور پیچھے بیٹھے افراد کی ہلاکتیں اور زخمی ہونا اور ہوائی فائرنگ کے واقعات تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟