انگلینڈ کی کاؤنٹی ورک شائر کے علاقے کنیل ورتھ سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر وِل جانسٹن نے اپنی بہن کی بریسٹ کینسر کی تشخیص کے بعد چندہ اکٹھا کرنے کے لیے یخ بستہ پانی میں غوطے لگا دیے۔
وہ کینسر ریسرچ یوکے کے لیے شروع کی گئی ’12 ڈِپس آف کرسمس‘ مہم کے تحت اب تک 6 غوطے مکمل کر چکے ہیں۔ یہ مہم وہ اپنی بہن لورا میتھیوز کے نام پر کر رہے ہیں۔
2 بچوں کے والد وِل جانسٹن بالسال کامن کے لیونڈر ہال میں واقع وائلڈ سوئمنگ لیک میں چھلانگیں لگا رہے ہیں جہاں پانی کا درجہ حرارت 4.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔
وِل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’میں ایک پریشان اور بے بس بھائی تھا سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں ممکن ہے یہ پاگل پن ہو لیکن میں اسے پسند بھی کر رہا ہوں۔
بہن کی بیماری اور خاندان کا ردعمل
لورا میتھیوز، جنہیں پیار سے ’لوس‘ کہا جاتا ہے، کو گلٹی محسوس ہونے کے صرف 3 ہفتے بعد بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے انہیں سرجری اور ریڈیوتھراپی کا مشورہ دیا ہے۔
وِل جانسٹن کے مطابق جب انہوں نے اس فنڈ ریزنگ مہم کے بارے میں سنا تو بغیر سوچے فوراً اس میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ میرے یہ سب کرنے کی بڑی وجہ میری شاندار بہن لوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کینسر‘ لفظ سننا ہی خوفناک ہوتا ہے۔ ہم سب صدمے میں ہیں اور اس کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بہن بہت مضبوط ہیں اور خاندان و دوستوں کا مضبوط حلقہ ان کا سہارا بنا ہوا ہے۔
فنڈ ریزنگ میں پیشرفت

مہم شروع ہوتے ہی چند دنوں میں چندہ جمع کرنے والے صفحے نے ہزار پاؤنڈ سے زائد اسپانسرشپ حاصل کر لی۔ اب تک وِل جانسٹن 1,600 پاؤنڈ جمع کر چکے ہیں جبکہ ان کا ہدف 2,000 پاؤنڈ ہے۔
وِل کہتے ہیں کہ پہلی بار میں نے سوچا کہ دسمبر میں برف جیسے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ کیوں لگا رہا ہوں؟ چند سیکنڈ بعد سردی کا احساس بھول جاتا ہے۔ جسم چند لمحے دکھتا ہے، پھر جب سانس بحال ہوتی ہے تو لطف آنا شروع ہو جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حمایت نے انہیں حیران کر دیا ہے۔
کینسر ریسرچ یوکے کا ردعمل
کینسر ریسرچ یوکے کی نمائندہ پاؤلا ینگ نے کہا کہ ہم ویل کے بے مثال جوش کے بے حد شکر گزار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم وِل اور ان کی بہن لوس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم پچھلے 50 برسوں میں برطانیہ میں کینسر سے بچاؤ کی شرح دگنی ہونے میں اہم کردار ادا کر چکی ہے۔
پاؤلا نے مزید کہا کہ ہم مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وِل جیسے لوگ ہماری ریسرچ کا ساتھ دیں گے۔














