اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین سے جاری دہشتگردی کی سرگرمیاں پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے ایک سنگین اور ناقابل قبول خطرہ بن چکی ہیں۔
سلامتی کونسل سے افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے، پاکستانی مندوب نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر افغان عبوری حکومت (طالبان) نے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو پاکستان اپنے قومی دفاع کے تحت اپنے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں دہشتگردوں کو جدید اسلحے کی فراہمی امن کے لیے خطرہ، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ
عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے تقریباً 6,000 جنگجو اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں اور وہاں سے حملے کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اب افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ تمام افغان پناہ گزین باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ: علاقائی تخفیف اسلحہ سمیت پاکستان کی 4 اہم قراردادیں منظور
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگردی کے خطرات کا نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔













