لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے 2 الگ مگر اہم واقعات نے دلچسپ و عجیب صورتحال پیدا کردی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی جیولری مارکیٹ سے مبینہ طور پر 20 کلو سونا غائب، مقدمہ درج
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب رنگ روڈ کو پیدل عبور کرنے والے شہری کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا تو دوسری جانب قسطوں پر موٹرسائیکلیں فروخت کرنے والے شخص کے نام پر 2 ہزار سے زائد ٹریفک چالان جمع ہو کر کل جرمانہ 23 لاکھ روپے سے بڑھ گیا۔
رنگ روڈ کو پیدل عبور کرنا مہنگا پڑ گیا
لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں اس شہری کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس نے نواز شریف انڈر پاس کے قریب رنگ روڈ کو پیدل عبور کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالا بلکہ اپنی اور دیگر افراد کی جان کو بھی خطرے میں ڈالا۔ پولیس نے واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ایک ہی شخص کے نام پر 23 لاکھ روپے سے زائد جرمانے
دوسری جانب لاہور میں موٹرسائیکلیں قسطوں پر فروخت کرنے والے ایک شہری کے نام پر غیر معمولی تعداد میں ٹریفک چالان سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ، جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف درخواست پر نوٹسز جاری کر دیے
سیف سٹی حکام کے مطابق مذکورہ شخص کے نام پر 500 موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں۔
اب تک ان گاڑیوں کے خلاف 2071 چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس طرح مجموعی جرمانہ 23 لاکھ روپے سے زائد بنتا ہے۔
موٹرسائیکلیں خریدنے والے افراد نے یا تو مکمل رقم ادا نہیں کی یا گاڑیاں ابھی تک اپنی ملکیت میں منتقل نہیں کرائیں جس کے باعث تمام چالان تاحال فروخت کنندہ کے نام پر ہی جاری ہو رہے ہیں۔
ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا چیلنج بڑھ گیا
یہ دونوں واقعات لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور ان کے انتظامی اثرات کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت کا 3 روزہ تہوار 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری کی تصدیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب شہری رویوں میں بہتری کی ضرورت ہے تو دوسری جانب رجسٹریشن کے نظام اور تنبیہی اقدامات کو بھی مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔














