لاہور ہائیکورٹ، جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف درخواست پر نوٹسز جاری کر دیے

جمعرات 11 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں جاری جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈی جی یگ آئی اور کمیشن برائے تحفظ انسانی حقوق کو جواب جمع کرانے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے میاں دائود ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ جواب جنوری کے تیسرے ہفتے تک عدالت میں جمع کرایا جائے۔

نوٹسز جاری

درخواستگزار وکلا کے مطابق جنوری 2025 سے پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو جعلی اور نامعلوم مقدمات میں نامزد کرکے ہلاک کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب پولیس کے صوبہ بھر میں کومبنگ آپریشنز اور موک ایکسرسائز

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 1100 شہری پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے متعدد فیصلوں میں جعلی پولیس مقابلے آئین و قانون کے خلاف قرار دیے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ جعلی پولیس مقابلے کریمنل جسٹس سسٹم کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں، اور وہاڑی میں ذیشان ڈھڈی ایڈووکیٹ کا قتل اس کی شرمناک مثال ہے۔

انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 کے تحت ایف آئی اے کو ہر ہلاکت کی 30 دن میں انکوائری کرنے کی پابندی ہے، لیکن آج تک کسی ہلاکت کی انکوائری نہیں کی گئی۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ پنجاب میں فوری طور پر پولیس مقابلے روکنے کا حکم دیا جائے اور تمام مقابلوں کی انکوائری کرائی جائے۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی حکومت کو 2022 کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

درخواستگزار وکلا کا کہنا ہے کہ قانون کے نفاذ اور عدالتی فیصلوں کے باوجود پنجاب میں شہریوں کو ملزم قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے، اور عدالت کے احکامات کے باوجود ایف آئی اے نے ابھی تک کسی ہلاکت کی انکوائری انجام نہیں دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘