پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور کمسن بیٹی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں انتہائی افسوسناک اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر نے گھریلو ناچاقی کے باعث اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
لاہور میں درج اغواء کے مقدمے کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے واقعے کو اغوا کا رنگ دے کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال میں قتل کی سنسنی خیز واردات: 8 ماہ قبل تالاب سے ملنے والے انسانی اعضا قبر سے غائب
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے قتل کے بعد خود ہی تھانہ برکی میں اہلیہ اور بیٹی کے اغواء کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عثمان حیدر کی دو شادیاں تھیں اور مقتولہ اس کی پہلی بیوی تھی، جس سے اس نے محبت کی شادی کی تھی۔
دوسری شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان اختلافات اور گھریلو جھگڑے شدت اختیار کر گئے، جو بالآخر اس المناک واقعے پر منتج ہوئے۔
مزید پڑھیں: مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو تنازع کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر فائرنگ کر کے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کیا۔
واقعے کے بعد عثمان حیدر نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے اہلیہ اور بیٹی کی تلاش کا ڈرامہ رچایا اور متعدد مرتبہ سسرال جا کر ان پر اغوا کا الزام بھی عائد کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ بیٹی کی لاش کاہنہ جبکہ اہلیہ کی لاش شیخوپورہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ، قتل کے مجرم کی دُہری سزا عمر قید برقرار
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی عثمان حیدر کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزم کی دوسری بیوی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔
ایس پی کی زیر نگرانی تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کے دوران اس افسوسناک واقعے کے دیگر پہلو بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔














