سونے کے زیورات ہمیشہ سے بھارتی شادیوں کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ بھاری ہار، چوڑیاں، بالیاں اور ماں تکیا شادی کی روایتی تقریب میں دولت اور سماجی مرتبے کی علامت ہیں۔ تاہم، احمد آباد کی ایک دلہن نے اس روایت کو توڑتے ہوئے اپنی شادی میں سونا پہننے سے انکار کر دیا۔
کانٹینٹ کریئیٹر پنکتی پانڈے نے اپنی بہن نشتھا کی شادی کے حوالے سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ میں بتایا کہ دونوں بہنیں مالی طور پر خود مختار ہیں اور انہوں نے سونا خریدنے سے اجتناب کیا تاکہ ہماری اور والد کی کمائی ضائع نہ ہو۔
View this post on Instagram
پنکتی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سونے کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی ان لوگوں کی بے احترامی کرنا چاہتے ہیں جو اسے پسند کرتے ہیں۔ بس ہم خود کبھی اسے رکھنے کے شوقین نہیں رہے۔ ہمارے خاندان میں زیادہ تر سونا الماریوں میں محفوظ رہتا ہے اور شادی کے دن بھی شاذ و نادر ہی پہنا جاتا ہے‘۔
سونا خریدنے کے بجائے کانٹینٹ کریئیٹر اور ان کے خاندان نے وہ رقم جو ان کے والد نے سونے کے لیے رکھی تھی سرمایہ کاری میں لگائی جو اسٹاک مارکیٹ، ایکویٹی میوچل فنڈز اور گولڈ بانڈز میں لگائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’محبت اور جذبات وہی ہیں، بس سرمایہ کاری کا طریقہ زیادہ سوچ سمجھ والا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل شادی کارڈ کے دور میں اب بھی اردو بازار کے روایتی کارڈ مقبول کیوں؟
نشتھا نے شادی کے دن سونا نہ پہننے پر ابتدا میں ہچکچاہٹ محسوس کی سکون اور ہلکا پن محسوس ہوا۔ لیکن انہیں والد کی محبت کی مستقل حفاظت، آزادی، استحکام اور خود مختاری کا احساس ملا۔
پنکتی کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کی کہانی دیگر دلہنوں کے لیے تحریک کا باعث بن سکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ کہانی ایک بھی دلہن کو بااختیار بنائے تو اسے شیئر کرنا ضروری ہے کیونکہ باشعور شادی کا مطلب سمجھداری کے ساتھ فیصلے کرنا ہے‘۔














