ڈیجیٹل شادی کارڈ کے دور میں اب بھی اردو بازار کے روایتی کارڈ مقبول کیوں؟

جمعہ 22 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بدلتے زمانے کے ساتھ لوگوں کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ ایک وقت تھا جب گاؤں میں شادی اور دیگر تقریبات کی دعوت دینے کے لیے ایک شخص مخصوص ہوتا تھا۔ پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو کتابوں کے ساتھ دعوت نامے بھی بڑی تعداد میں چھپنے لگے۔ شہر اور دیہات دونوں ہی جگہوں پر شادی کے لیے کارڈ کی صورت میں بنے ہوئے دعوت نامے بھجوائے جانے لگے۔

دعوت ناموں سے بات آگے بڑھی تو ایک طرف ڈبوں میں شادی کارڈ کے ساتھ دیگر لوازمات بھجوانے کا سلسلہ چل نکلا وہیں دوسری طرف ڈیجیٹل دور نے کچھ آسانیاں بھی پیدا کیں۔ اب شادی کارڈ گھر گھر گھوم کر دینے کی بجائے واٹس ایپ کے ذریعے بھی بھیجے جاتے ہیں۔

کیا ڈیجیٹل کارڈز شادی کارڈز کی روایت میں کمی لائے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے رخ کیا، راولپنڈی کے اردو بازار کا جہاں پرنٹنگ کے خاندانی کاروبار سے وابستہ احمد اختر ہاشمی سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق شادی کے موقع کو لوگ معاشی حالات کے بجائے سماجی معاملات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اب بھی لوگوں کی اکثریت شادی کی دعوت کارڈ کے ذریعے ہی دیتی ہے۔ شادی کارڈ کی پرنٹنگ کن طریقوں سے کی جاتی ہے اور اس میں کتنا وقت لگتا ہے، جاننے کے لیے دیکھیے ہماری ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی