کیا آنگ سان سوچی انتقال کرگئیں، بیٹے کا بیان سامنے آگیا

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میانمار کی سابق رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کے بیٹے کِم ایریس نے کہا ہے کہ انہیں شدید خدشہ ہے کہ ان کی والدہ شاید اب زندہ بھی نہ ہوں، کیونکہ 2 سال سے زائد عرصے سے کسی نے انہیں نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں خاندان یا وکلا سے رابطے کی اجازت دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو ٹوکیو میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کِم ایریس نے کہا ’کسی نے انہیں 2 سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔ انہیں اپنے قانونی مشیروں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں، خاندان کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ شاید مر بھی چکی ہوں۔‘

صحت بگڑتی جا رہی ہے، معلومات کا شدید فقدان

80 سالہ آنگ سان سوچی کو 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا، جس کے بعد سے ان کی صحت اور حالت کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ان کے بیٹے کے مطابق انہیں دل، ہڈیوں اور مسوڑھوں کے مسائل تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں صرف ادھوری اور بالواسطہ معلومات موصول ہوئیں۔ آخری خط انہیں 2 سال قبل ملا تھا۔

کِم ایریس نے بتایا کہ اس خط میں ان کی والدہ نے اپنی کوٹھڑی میں شدید گرمی اور سخت سردی کی شکایت کی تھی۔

27 سال قید کی سزا

میانمار کی فوجی حکومت نے آنگ سان سوچی کو اشتعال انگیزی، بدعنوانی، انتخابی دھاندلی  جیسے الزامات میں 27 سال قید کی سزا سنائی ہے، جن کی وہ مسلسل تردید کرتی آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو معافی مل گئی

کِم ایریس کے مطابق ان کی والدہ اس وقت دارالحکومت نیپی تاؤ میں قید تھیں۔

متنازع انتخابات اور آخری موقع

میانمار میں فوجی حکومت 28 دسمبر سے مرحلہ وار انتخابات کرانے جا رہی ہے، جنہیں کئی غیر ملکی حکومتیں اور مبصرین دھوکا اور فوجی اقتدار کو جائز بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

کِم ایریس نے ان انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات نہ آزاد ہیں، نہ منصفانہ۔ اگر یہ صورتحال اتنی افسوسناک نہ ہوتی تو مضحکہ خیز لگتی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہی انتخابات شاید ایک چھوٹا سا موقع فراہم کریں، جس کے ذریعے عالمی دباؤ بڑھا کر ان کی والدہ کی حالت بہتر بنائی جا سکے یا انہیں رہا کیا جا سکے۔

فوجی حکومت کا ممکنہ کردار

کِم ایریس نے کہا کہ فوجی سربراہ من آنگ ہلائنگ اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت آنگ سان سوچی کو (اگر وہ زندہ ہیں) رہا کر سکتے ہیں یا دوبارہ نظر بندی میں منتقل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے میانمار کے فوجی جنرل کی خوشامد کارگر، امریکا نے پابندیاں نرم کردیں

’اگر وہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے میری والدہ کو رہا کرنے یا گھر میں نظر بند کرنے کا سوچیں تو کم از کم یہ بھی کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔‘

دوسری طرف میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

روہنگیا بحران اور عالمی ساکھ

آنگ سان سوچی کی عالمی ساکھ کو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف 2016–17 کی فوجی کارروائی کے بعد شدید نقصان پہنچا۔ اقوامِ متحدہ نے ان کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

کِم ایریس کا مؤقف ہے کہ ان کی والدہ ان جرائم میں شریک نہیں تھیں۔ میانمار کے آئین کے تحت انہیں فوج پر مکمل اختیار حاصل نہیں تھا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2020 میں ہیگ کی عدالت میں آنگ سان سوچی نے جنگی جرائم کے امکان کو تسلیم کیا تھا، مگر نسل کشی کے الزام کی تردید کی تھی۔

’میں بیٹا ہوں، خاموش نہیں رہ سکتا‘

کِم ایریس، جو برطانوی شہری ہیں، نے کہا کہ وہ پہلے سیاست سے دور رہتے تھے، مگر اب ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔

’میری ماں کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ مجھے یہ سب کرنا پڑے۔ لیکن میں ان کا بیٹا ہوں۔ اگر میں ان کے لیے آواز نہیں اٹھاؤں گا تو کسی اور سے کیا امید رکھوں؟‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ، اسرائیلی فضائی حملے میں فری لانسر سمیت 3 صحافی جاں بحق

قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کے واضح جواب کے باوجود بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے مؤقف پر قائم

وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے حماد اظہر کو نوسر باز قرار دے دیا، مگر کیوں؟

ویڈیو

عمران خان قصہ پارینہ، سارے دروازے بند ہوگئے

5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی

پشاور کی مارکیٹ جو بسنت کو رنگین بناتی ہے

کالم / تجزیہ

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘