اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈگری تنازع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے بینچ پر اٹھائے گئے اعتراض کو مسترد کر دیا۔ ڈویژن بینچ میں جسٹس اعظم خان بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں: جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس میں پیش رفت، ایچ ای سی کے ذریعے متعلقہ تعلیمی ریکارڈ طلب
جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ان کی ٹرانسفر کے خلاف دیگر ججز نے اپیل دائر کی تھی اور یہ مفادات کے تصادم کا معاملہ ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیاکہ وہ اس بینچ پر اعتماد نہیں رکھتے اور اگر کیس سننا ہے تو کسی اور بینچ کو بھجوا دیا جائے۔
جسٹس جہانگیری نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک کولیگ نے دوسرے کولیگ کو کام سے روکنے کی کوشش کی ہے اور دنیا میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے عدالت کو خبردار کیا کہ وارنٹو کی رٹ میں یہ اقدام عدالتی مثال قائم کرنے کے مترادف ہوگا جس کے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل پر زور دیا کہ اس معاملے کو دیکھنے دیا جائے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے قرآن پاک پر حلف دیتے ہوئے کہاکہ ان کی ڈگری بالکل اصل ہے اور یونیورسٹی نے اسے جعلی قرار نہیں دیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ انہیں صرف 3 دن کا نوٹس دیا گیا اور پٹیشن کی کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی، جبکہ یہ معاملہ 34 سال پرانا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری سے متعلق مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے؟
عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو تمام متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ طلب کر لیا اور جسٹس طارق جہانگیری کو ہدایت دی کہ وہ پٹیشن اور تمام دستاویزات فراہم کریں۔ کیس کی مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔














