قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے اجلاس میں چیئرمین امین الحق نے ناقص کنیکٹیویٹی اور بڑھتے سائبر کرائمز پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تاہم اس موقع پر وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے 5 جی کی نیلامی سے متعلق خوشخبری بھی سنا دی۔
اجلاس سید امین الحق کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جہاں ملک بھر میں کمزور موبائل سگنلز اور سست انٹرنیٹ کی فراہمی پر اراکین کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: وادی لیپہ میں ایس کام موبائل سروس کے اجرا پر عوام میں خوشی کی لہر
چیئرمین قائمہ کمیٹی سید امین الحق نے واضح کیاکہ کمیٹی ممبران پی ٹی اے کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
انہوں نے شکایات کے بروقت ازالے کے لیے پی ٹی اے کو اپنے تمام 12 زونل دفاتر میں فوکل پرسنز نامزد کرنے کی ہدایت جاری کیں۔
اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل کی تیسری مرتبہ بھی اجلاس میں عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے اظہار برہمی کیا۔ اور ایس سی او افسران کو بریفنگ سے روکتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ڈی جی کے پیش نہ ہونے پر سخت تادیبی کارروائی کا عندیہ دیدیا۔
نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی کی کارکردگی سوالیہ نشان قرار
چیئرمین کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی کی کارکردگی کو بھی سوالیہ نشان قرار دیا، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ہنی ٹریپنگ، فحش مواد اور ہیکنگ جیسے مسائل سے عوام پریشان ہیں۔
کمیٹی نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کو 28 فروری تک ہر صورت مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی نے اداروں کی کارکردگی پر سخت تحفظات کا اظہار کی۔
رکن کمیٹی صادق میمن نے پی ٹی اے کی موبائل سگنلز کی کوالٹی سروے رپورٹ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات ظاہر کیے۔
شرمیلا فاروقی نے مطالبہ کیا کہ یہ سروے تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے، اور 99 فیصد تسلی بخش رپورٹ پر سوال اٹھایا۔
پولین بلوچ نے استفسار کیا کہ اگر پی ٹی اے موبائل سگنلز فراہم نہیں کر سکتا تو لوگ کہاں جائیں؟
شکایات کے ازالے میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، چیئرمین پی ٹی اے نے تسلیم کرلیا
چیئرمین پی ٹی اے نے تسلیم کیاکہ شکایات کے ازالے میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، تاہم دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال میں شکایات کے حل میں پی ٹی اے سرکاری محکموں میں سرفہرست رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ یو ایس ایف کم ترقی یافتہ علاقوں میں نیٹ ورک کیلئے کام کرتا ہے، ایک وقت پر یو ایس ایف کے پاس 50 ارب سے فنڈز پڑے ہوئے تھے، جس پر کمیٹی ارکان کی تجویز پر چیئرمین کمیٹی نے یونیورسل سروس فنڈز کے منصوبوں سے متعلق علیحدہ بریفنگ کی ہدایات جاری کردیں۔
2030 تک کا کنیکٹیویٹی پلان تیار کر لیا گیا، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ
اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر 2030 تک کا کنیکٹیویٹی پلان تیار کر لیا گیا ہے، جو آئندہ چند ہفتوں میں لانچ کیا جائے گا، فائیو جی کی لانچنگ سے قبل تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے گزشتہ 2 ماہ کے دوران 20 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے منظور کیے ہیں۔
علاوہ ازیں وزیر آئی ٹی کی یقین دہانی پر رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے کمیٹی میں بحث کے لیے پئش کردہ ڈیجیٹل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق اپنا بل واپس لے لیا۔
مزید پڑھیں: انٹرنیٹ سروس کو درپیش مسائل کیا 5 جی اسپیکٹرم سے حل ہو جائیں گے؟
اجلاس میں این آئی ٹی بی کے سی ای او فیصل رتیال نے بریفنگ دی کہ ای آفس کے نفاذ سے قومی خزانے کو 9.5 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے اور وفاقی حکومت کی تمام وزارتیں 100 فیصد ای آفس پر منتقل ہو چکی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ شعبوں میں اپنے کام کو مزید توسیع دینےکی ہدایت کی۔














