کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ کیا بارش برسانا ان کے بس میں ہے؟ بلوچستان اس وقت شدید خشک سالی کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صوبے میں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا ہے، کیونکہ قدرتی آفات کسی ایک صوبے تک محدود نہیں ہوتیں۔ محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت نے کلائمٹ فنڈ قائم کیا ہے تاکہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، سرفراز بگٹی
ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے اور ایک سال کے دوران تقریباً 700 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کی رٹ قائم کرے اور کوئی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ معصوم لوگوں کا خون بہے۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کو عدالت نے روکا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سے انتخابات ہیں جن کی مدت صرف 8 ماہ ہوتی ہے؟ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے گورنر کو درخواست دی کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جائیں تاکہ کسی قسم کی مار دھاڑ یا بدنظمی نہ ہو۔














