وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ہیڈکوارٹر میں سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کا افتتاح کیا۔
وزیر خزانہ نے مرکز کے قیام کو سراہتے ہوئے سرکاری شعبے میں جدید ڈیٹا اینالیسز ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا، جن میں مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی آڈٹنگ اور تجزیاتی کاموں کے لیے بوٹس کا استعمال شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کا سفارتکاروں کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے کیسکیڈ سینٹر کا دورہ
انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری اداروں کے تمام دستیاب ڈیٹا بیسز تک ڈیجیٹل رسائی حاصل کی جائے تاکہ آڈٹ کے دائرہ کار میں اضافہ، شفافیت اور عوامی وسائل کے مؤثر احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔
اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقبول احمد گوندل نے آڈٹ کے شعبے میں معیار پر توجہ دینے کی حکمت عملی پر زور دیا اور ادارہ جاتی و منصوبہ جاتی بنیادوں پر آڈٹ رپورٹنگ اور قابلِ آڈٹ اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کو گورننس میں بہتری کے مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈیٹا پر غیر ملکی سائبر حملہ ناکام
آڈیٹر جنرل نے اصلاحات اور جدید کاری کے حوالے سے بتایا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اقدامات کے تحت آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم نافذ کیا گیا، سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس قائم کیا گیا اور ڈیٹا اینالیٹکس ٹولز کے ذریعے آڈٹ کی کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات وزیرِ اعظم پاکستان کے معاشی ڈیجیٹلائزیشن کے وژن کے مطابق کیے گئے ہیں۔ کیش لیس معیشت میں اضافے کے ساتھ مزید ڈیجیٹل ڈیٹا دستیاب ہوگا، جس تک مرکز حقیقی وقت میں رسائی حاصل کر کے تجزیہ کرے گا۔
دونوں اداروں نے شفافیت، احتساب اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔














