فرانسیسی وزارتِ داخلہ پر سائبر حملہ، 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کا ڈیٹا خطرے میں

جمعرات 18 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کی وزارت داخلہ سمیت متعدد ادارے سائبر حملوں کا شکار ہوئے ہیں اور ان حملوں کو ایک ایسے روسی ہیکر گروپ سے جوڑا گیا ہے جو ماضی میں دنیا کے تباہ کن ترین سائبرحملوں میں ملوث رہا ہے۔

فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس نے ایک ’دراندازی مہم‘ کی نشاندہی کی ہے جس میں روس کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی جی آر یو سے منسلک ہیکرز نے فرانسیسی سافٹ ویئر کمپنی سینٹریون کو نشانہ بنایا، اور اس کے ذریعے اس کے صارفین کے نیٹ ورکس میں دو خطرناک میل ویئر نصب کیے گئے۔

یہ ’سپلائی چین حملہ‘ امریکی بزنس سافٹ ویئر سولر ونڈز پر ہونے والے حالیہ حملے سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی امریکی سرکاری ادارے اور دیگر تنظیمیں متاثر ہوئیں۔

اے این ایس ایس آئی کے مطابق یہ سائبر دراندازی 2017 کے آخر میں شروع ہوئی اور 2020 تک جاری رہی، اور اس کا زیادہ تر نشانہ آئی ٹی سروس فراہم کرنے والے ادارے، بالخصوص ویب ہوسٹنگ کمپنیاں بنیں۔

یہ بھی پڑھیں: سائبر حملے سے یورپی ہوائی اڈوں پر بد نظمی، پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

سینٹریون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فراہم کردہ معلومات کا نوٹس لے لیا ہے، تاہم فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ جس کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اس عرصے میں سنٹرون کے کسی کمرشل سافٹ ویئر ورژن سے متعلق تھی۔

کمپنی کے صارفین میں ایئربس، ایئر فرانس، تھیلس، آرسلور مِتال، الیکٹریسٹی دے فرانس، ٹیلی کام کمپنی اورنج اور فرانسیسی وزارتِ انصاف شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سافٹ ویئر ہیک کے ذریعے کتنی یا کون سی تنظیمیں متاثر ہوئیں۔

اے این ایس ایس آئی کا کہنا ہے کہ یہ مہم ’سینڈ ورم‘ نامی ہیکرگروپ سے منسوب سابقہ سائبرحملوں سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔

ایجنسی کے مطابق یہ گروپ عام طور پر وسیع پیمانے پردراندازی کے بعد مخصوص اہداف پرتوجہ مرکوز کرتا ہے جو اس کے اسٹریٹجک مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

مزید پڑھیں: جی میل صارفین خبردار، گوگل کا ڈھائی ارب اکاؤنٹس کو عالمی سائبر حملے پر الرٹ جاری

سائبر سیکیورٹی ماہرین اور حکام کے مطابق ’سینڈ ورم‘ گروپ کا تعلق جی آر یو سے ہے اور یہ گروپ حالیہ تاریخ کے کچھ انتہائی تباہ کن سائبر حملوں میں ملوث رہا ہے، جن میں 2017  کا نوٹ پیٹیا رینسم ویئر حملہ اور جنوبی کوریا میں سرمائی اولمپکس پر سائبر حملے شامل ہیں۔

یورپی سفارت کاروں نے ان حملوں کے تناظر میں روسی انٹیلیجنس یونٹ کے کئی افسران پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی اسی گروپ سے تعلق رکھنے والے ہیکرز پر فردِ جرم عائد کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی 39 وزارتیں ’بلیو لاکر‘ سائبر حملے کے ہدف پر، سائبر ایمرجنسی ٹیم کا ہائی الرٹ

امریکی حکام کے مطابق اس گروپ پر2017  میں فرانسیسی صدارتی امیدوار ایمانوئیل میکرون کی جماعت ’لا ریپبلک آن مارش‘ پر سائبر حملے میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

فرانسیسی حکام کی جانب سے ’سینڈ ورم‘ گروپ کا سرِعام ذکر غیر معمولی ہے، کیونکہ فرانس روایتی طور پر سائبر حملوں کی ذمہ داری کھلے عام کسی ملک یا گروہ پر ڈالنے سے گریز کرتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ

میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملاقات ضرور ہوگی، وقت اور جگہ کا تعین تاحال نہیں ہوا، رانا ثنااللہ

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

پورا پاکستان بھی اگر بسنت فیسٹیول منانے لاہور آجائے تو ہم ٹریفک کنٹرول کر لیں گے ۔سی ٹی او لاہور اطہر وحید

پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

وی ایکسکلوسیو: دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا ادارے کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے، انوارالحق کاکڑ

کالم / تجزیہ

فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟