فرانس کی وزارت داخلہ سمیت متعدد ادارے سائبر حملوں کا شکار ہوئے ہیں اور ان حملوں کو ایک ایسے روسی ہیکر گروپ سے جوڑا گیا ہے جو ماضی میں دنیا کے تباہ کن ترین سائبرحملوں میں ملوث رہا ہے۔
فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس نے ایک ’دراندازی مہم‘ کی نشاندہی کی ہے جس میں روس کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی جی آر یو سے منسلک ہیکرز نے فرانسیسی سافٹ ویئر کمپنی سینٹریون کو نشانہ بنایا، اور اس کے ذریعے اس کے صارفین کے نیٹ ورکس میں دو خطرناک میل ویئر نصب کیے گئے۔
🇫🇷 French government suffered a cyberattack, confirmed the breach of email systems — hackers stole the data of more than 16.4MIL people.
"Hackers who broke into the French Ministry of the Interior's systems gained access to a wanted list and a criminal record database containing… pic.twitter.com/lu4oYXNdXZ
— Lord Bebo (@MyLordBebo) December 17, 2025
یہ ’سپلائی چین حملہ‘ امریکی بزنس سافٹ ویئر سولر ونڈز پر ہونے والے حالیہ حملے سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی امریکی سرکاری ادارے اور دیگر تنظیمیں متاثر ہوئیں۔
اے این ایس ایس آئی کے مطابق یہ سائبر دراندازی 2017 کے آخر میں شروع ہوئی اور 2020 تک جاری رہی، اور اس کا زیادہ تر نشانہ آئی ٹی سروس فراہم کرنے والے ادارے، بالخصوص ویب ہوسٹنگ کمپنیاں بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: سائبر حملے سے یورپی ہوائی اڈوں پر بد نظمی، پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار
سینٹریون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فراہم کردہ معلومات کا نوٹس لے لیا ہے، تاہم فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ جس کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اس عرصے میں سنٹرون کے کسی کمرشل سافٹ ویئر ورژن سے متعلق تھی۔
کمپنی کے صارفین میں ایئربس، ایئر فرانس، تھیلس، آرسلور مِتال، الیکٹریسٹی دے فرانس، ٹیلی کام کمپنی اورنج اور فرانسیسی وزارتِ انصاف شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سافٹ ویئر ہیک کے ذریعے کتنی یا کون سی تنظیمیں متاثر ہوئیں۔
اے این ایس ایس آئی کا کہنا ہے کہ یہ مہم ’سینڈ ورم‘ نامی ہیکرگروپ سے منسوب سابقہ سائبرحملوں سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ گروپ عام طور پر وسیع پیمانے پردراندازی کے بعد مخصوص اہداف پرتوجہ مرکوز کرتا ہے جو اس کے اسٹریٹجک مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔
مزید پڑھیں: جی میل صارفین خبردار، گوگل کا ڈھائی ارب اکاؤنٹس کو عالمی سائبر حملے پر الرٹ جاری
سائبر سیکیورٹی ماہرین اور حکام کے مطابق ’سینڈ ورم‘ گروپ کا تعلق جی آر یو سے ہے اور یہ گروپ حالیہ تاریخ کے کچھ انتہائی تباہ کن سائبر حملوں میں ملوث رہا ہے، جن میں 2017 کا نوٹ پیٹیا رینسم ویئر حملہ اور جنوبی کوریا میں سرمائی اولمپکس پر سائبر حملے شامل ہیں۔
یورپی سفارت کاروں نے ان حملوں کے تناظر میں روسی انٹیلیجنس یونٹ کے کئی افسران پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی اسی گروپ سے تعلق رکھنے والے ہیکرز پر فردِ جرم عائد کی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی 39 وزارتیں ’بلیو لاکر‘ سائبر حملے کے ہدف پر، سائبر ایمرجنسی ٹیم کا ہائی الرٹ
امریکی حکام کے مطابق اس گروپ پر2017 میں فرانسیسی صدارتی امیدوار ایمانوئیل میکرون کی جماعت ’لا ریپبلک آن مارش‘ پر سائبر حملے میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
فرانسیسی حکام کی جانب سے ’سینڈ ورم‘ گروپ کا سرِعام ذکر غیر معمولی ہے، کیونکہ فرانس روایتی طور پر سائبر حملوں کی ذمہ داری کھلے عام کسی ملک یا گروہ پر ڈالنے سے گریز کرتا رہا ہے۔














