سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی میں انکشاف ہوا ہے کہ این آئی ایچ نے ملک میں انفلوئنزا کی ایک نئی قسم کی نشاندہی کی ہے، جس کی ویکسین بھی ملک میں دستیاب نہیں۔
چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا۔
مزید پڑھیں: دنیا بھر میں خسرہ سے اموات میں 88 فیصد کمی، مگر وائرس اب بھی خطرناک
شیری رحمان نے کہاکہ پشاور شدید آلودگی کی لپیٹ میں ہے اور لاہور کی صورتحال بھی تشویشناک ہو چکی ہے، خاص طور پر کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد کے لیے یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ این آئی ایچ نے انفلوئنزا کی ایک نئی قسم کی نشاندہی کی ہے جس کی ویکسین ملک میں دستیاب نہیں جبکہ فضائی معیار انتہائی خراب ہونے کی وارننگ دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کی اہم ترین میٹنگ میں نہ ہی وزیر موجود ہیں نہ ہی وزیرِ مملکت، صنعتی ایسوسی ایشنز کے نام بتائے جائیں اور واضح کیا جائے کہ وہ کاربن بارڈر میکنزم پر کیسے عمل کریں گی، انہیں نوٹس جاری کر کے کمیٹی میں بلایا جائے گا۔
شیری رحمان نے کہاکہ ماحولیاتی پیمانے ہر ضلع اور ہر علاقے میں یکساں لاگو ہونے چاہییں، آلودگی میں سب سے زیادہ اضافہ صنعتی زونز میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
کیا بھٹہ خانوں میں ’زگ زیگ‘ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے؟ شیری رحمان کا سوال
انہوں نے کہاکہ کیا بھٹہ خانوں میں ’زگ زیگ‘ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے؟ کراچی اور سندھ میں کاربن مارکیٹس کے ذریعے اخراج میں کمی پر آئندہ تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
شیری رحمان نے کہاکہ میتھین گیس کا اخراج دیگر تمام گیسوں سے زیادہ خطرناک ہے، نوٹس کے بعد بھٹہ خانوں کو کتنے دن کام کی اجازت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہیں اور جب تک پاکستان میں ای وی تیار اور چارجنگ اسٹیشنز دستیاب نہیں ہوں گے، مکمل نفاذ مشکل ہے، گاڑیوں کی ٹوننگ لازمی ہو، کالا دھواں بند کیا جائے اور بارڈر پر گاڑیوں پر مرحلہ وار ٹیکس عائد کیا جائے جیسا کہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ تمام متعلقہ اداروں اور عدالتوں میں کیس کرنے والوں کو کمیٹی میں طلب کیا جائے گا، ہمارے کہنے پر الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جا چکا ہے، سی ڈی اے چئیرمین کو اگلی دفعہ کمیٹی میں آنا چاہیے، اگر وہ نہ آئے تو آپ جانتے ہیں میں چھوڑتی نہیں۔
انہوں نے کہاکہ مجھے روز درخت کٹنے کی تصاویر موصول ہورہی ہیں، آپ سب لوگوں کو فضائی آلودگی نظر نہیں آتی؟ آپ سب کو پنجاب اور سندھ کو فالو کرنا ہوگا۔ واٹر اینڈ سیورج پلانٹ کا معاملہ گول گول گھوم رہا ہے۔
اس موقع پر حکام سی ڈی اے نے بتایا کہ منصوبے کے لیے ٹینڈرنگ کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ جس پر شیری رحمان نے کہاکہ ہم نہ کہتے تو اس منصوبے کے ٹینڈر کا معاملہ بھی شروع نہ ہوتا۔
سی ڈی اے پلاٹنگ کرنے میں مصروف ہے، سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی
سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی نے کہاکہ سی ڈی اے پلاٹنگ کرنے میں مصروف ہے۔ جس پر شیری رحمان نے کہاکہ سی ڈی اے کے پاس اگلی دفعہ اس معاملہ پر جواب نہ ہوا تو بخشش نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ سی ڈی اے کے پاس پیسہ کمانے کا وقت کے عوام کو صاف پینے کا پانی نہیں دے سکتے، پولیو کے بڑھنے کی اہم وجہ واٹر سیورج پلانٹ نہ بننا بھی ہے، 2 سال سے سی ڈی اے کو مسائل بتا رہے ہیں۔
شیری رحمان نے مزید کہاکہ یہ 2 سال سے جاری مسئلہ ہے، سی ڈی اے کی بنیادی ذمہ داری صاف پینے کا پانی فراہم کرنا ہے، یہ ملک کا دارالحکومت ہے اور ہمیں اپنے شہریوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: نزلہ زکام کورونا وائرس سے بچاؤ میں مددگار، نئی تحقیق میں انکشاف
انہوں نے کہاکہ چترال سبز سے براؤن کیوں ہوگیا ہے، ووڈ لوٹ پالیسی غلط استعمال ہو رہی ہے اور ٹمبر مافیا بھی سرگرم ہے، میں نے خیبر پختونخوا کے ٹمبر مافیا کے بارے میں بات کی، لکڑیاں دریا کے ذریعے بھیجی جا رہی ہیں۔
شیری رحمان نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے جنگلات ہمارے فاریسٹری کا زیور ہیں، انہیں کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ زیادہ تر چوری ٹمبر مافیا نے کی ہے، یہ 30 سال سے ہو رہا ہے، عوام کو سہولتیں دیں کیونکہ غریب شدید مشکلات میں ہیں۔














