بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شہری رحمدل فضل کے بہیمانہ قتل پر اہل خانہ نے انصاف کی فراہمی اور دہشتگرد عناصر کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: 2025 میں 78 ہزار آپریشنز کے دوران 700 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک
رحمدل فضل کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ رحمدل ایک محنت کش مزدور اور زامیاد گاڑی کا ڈرائیور تھا، جس کا کسی بھی تنظیم یا منفی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ قتل کے بعد اس پر لگائے گئے الزامات سراسر جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کسی بھی فرد کو مخبر یا دلال قرار دے کر قتل کرنا نہ مزاحمت ہے، نہ جدوجہد، یہ کھلی دہشتگردی اور بلوچوں کی نسل کشی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ، غریب اور محنت کش نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا کسی مقصد کو جائز نہیں بناتا، بلکہ معاشرے میں خوف، انتشار اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔
اہلِ خانہ نے مطالبہ کیاکہ اگر کسی کو رحمدل پر شک تھا تو قتل کے بجائے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا جاتا اور صفائی کا موقع دیا جاتا۔ ماورائے عدالت قتل نہ صرف ظلم ہے بلکہ ایک غریب خاندان کو بے سہارا کر دینے والا عمل ہے۔
مزید پڑھیں: اس سال بلوچستان میں اب تک 500 سے زیادہ دہشتگرد مارے جا چکے، سرفراز بگٹی
انہوں نے کہاکہ ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رحمدل فضل کے قتل کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ملوث دہشتگرد عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔














