معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے رویے اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تفتیشی کمروں میں آڈیو اور ویڈیو کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ اعلیٰ حکام نگرانی کرسکیں اور کسی بھی ممکنہ ناانصافی کا راستہ روکا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی طرح ’بگ برادر ‘کی مدد ملی؟ رجب بٹ بول اٹھے
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈکی بھائی نے انکشاف کیا کہ دورانِ حراست ان کے دوستوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا اور ادارے میں شفاف نظام کا شدید فقدان ہے۔
گرفتاری اور رہائی کا پس منظر
ڈکی بھائی، جو پاکستان کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سولو یوٹیوبرز میں شامل ہیں اور جلد 10 ملین سبسکرائبرز کا سنگ میل عبور کرنے والے ہیں، کو اگست میں مبینہ طور پر بیٹنگ ایپس کی تشہیر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تقریباً 3 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے اور اس کے بعد دوبارہ یوٹیوب پر روزانہ ولاگز کا آغاز کیا۔
دوستوں کی مدد اور مشکلات
پوڈکاسٹ میں ڈکی بھائی نے بتایا کہ ان کی گرفتاری کے بعد کئی دوست مدد کے لیے آگے بڑھے، تاہم انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق معیظ بھائی نے خاندان کی مدد کی کوشش کی اور این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئے، جہاں عروب کو طلب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر عروب کا موبائل فون ضبط کیا گیا اور تفتیش کی گئی، جس پر معیظ بھائی نے ناانصافی دیکھتے ہوئے خود کو پیچھے ہٹا لیا۔
ندیم نانی والا کا واقعہ
ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ ندیم نانی والا بھی مدد کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر پہنچے، جہاں ان کے ڈرائیور کی جانب سے ویڈیو بنانے پر ایک اہلکار نے فون ضبط کر لیا۔ ندیم نانی والا کو وکلا کے ساتھ اندر لے جا کر الگ کمرے میں بٹھایا گیا اور بعد میں ان کے خلاف بغیر کسی ایف آئی آر کے محض تفتیش شروع کر دی گئی، حالانکہ وہ صرف ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ڈکی بھائی کے مطابق ندیم نانی والا سنگین قانونی مشکلات سے بال بال بچے۔
یہ بھی پڑھیں: دوران حراست یوٹیوبر ڈکی بھائی کا سینڈوچ کون کھا گیا؟ نیا معمہ بن گیا
ڈکی بھائی کے بھائی نے انکشاف کیا کہ اریب پرویز، جو اقرا کنول کے شوہر ہیں، نے بھی مدد کی کوشش کی، حالانکہ وہ ذاتی مصروفیات اور گھریلو حالات کے باعث دباؤ میں تھے۔ اریب پرویز نے بااثر شخصیات سے رابطے کیے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ نامعلوم افراد نے ان سے دھوکہ دہی کی اور ایک آئی فون لے کر غائب ہوگئے، یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ ڈکی بھائی کی رہائی میں مدد کریں گے۔
این سی سی آئی اے میں کیمروں کی عدم موجودگی
این سی سی آئی اے میں شفافیت کے فقدان پر بات کرتے ہوئے ڈکی بھائی نے سوال اٹھایا کہ تفتیشی دفاتر میں سی سی ٹی وی کیمرے کیوں موجود نہیں۔ ان کے مطابق انکوائری روم، ڈپٹی ڈائریکٹر کا کمرہ، کچن اور فارنزک لیب سمیت کئی مقامات پر کیمرے نصب نہیں، جس سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
احتساب اور شفافیت کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام تفتیشی کمروں میں آڈیو اور ویڈیو کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ اعلیٰ حکام نگرانی کرسکیں اور کسی بھی ممکنہ ناانصافی کا راستہ روکا جاسکے۔
ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ جب عام گھروں میں نگرانی کے لیے کیمرے موجود ہوسکتے ہیں تو تفتیشی اداروں میں شفافیت یقینی بنانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ ان کے بیانات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور صارفین سرکاری اداروں کے احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں۔













