امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف آج یعنی جمعے کے روز میامی میں قطر، مصر اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات چیت کریں گے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے انخلا کرنا ہوگا، حماس کے بجائے ایک عبوری انتظامیہ فلسطینی علاقے کا نظم و نسق سنبھالے گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں ہونے والے اس معاہدے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت تاحال سست روی کا شکار ہے، یہ معاہدہ واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی ثالثی میں طے پایا تھا۔
Scoop: Witkoff to meet Qatari, Egyptian and Turkish officials in Miami on Gaza deal https://t.co/ms5J9IdjM8
— Axios (@axios) December 18, 2025
ترکیہ نے بتایا ہے کہ اس کے وزیر خارجہ حاقان فدان ان مذاکرات میں شریک ہوں گے، امریکی میڈیا کے مطابق قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی بھی اجلاس میں موجود ہوں گے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ بدھ کے روز ایک خطاب میں کہا کہ ترکیہ ہر محاذ پر پرعزم انداز میں جدوجہد جاری رکھے گا تاکہ غزہ میں ہونے والے واقعات کو فراموش نہ کیا جائے اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات نازک مرحلے میں داخل ہو چکے، قطری وزیراعظم
ایکسیوس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے توقع ہے کہ وہ 29 دسمبر کو فلوریڈا میں ٹرمپ کی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے، جہاں امریکی صدر ایک طویل المدتی معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں دعویٰ کیا کہ غزہ کی جنگ بندی نے ’3 ہزار سال میں پہلی بار‘ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں افغان نژاد کا حملہ دہشتگردی ہے، عالمی تعاون ناگزیر، ترجمان دفترِ خارجہ
تاہم جنگ بندی اب بھی نازک صورتِ حال سے دوچار ہے، دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ ثالثوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل اور حماس وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ میں اسلحہ سازی کے سربراہ کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس اقدام پر ٹرمپ نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے سے خبردار کیا۔
مزید پڑھیں: امریکی قیادت میں بین الاقوامی امن و استحکام فورس غزہ میں جلد تعینات ہوگی، صدر ٹرمپ
اسٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اس شٹل سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں غزہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ممکن ہوا، یہ جنگ اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
یہ دونوں شخصیات یوکرین پر روسی حملے کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں بھی شامل ہیں اور ویک اینڈ پر میامی میں روسی حکام سے ملاقات کریں گی۔














