قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کو برقرار رکھنے سے متعلق مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
قطری وزیراعظم جن کا ملک اس جنگ کے اہم ثالثوں میں شامل ہے، نے قطر میں دوحہ فورم کانفرنس کے ایک سیشن کے دوران کہاکہ ثالث امن معاہدے کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: استنبول میں غزہ جنگ بندی پر بات چیت: اسٹیو وٹکوف کی خلیل الحیّہ سے ایک اور ملاقات طے
انہوں نے کہاکہ ہم ایک نہایت نازک موڑ پر ہیں۔ بات ابھی پوری نہیں بنی۔ جو کچھ اب تک ہوا ہے، وہ صرف ایک وقفہ ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم اسے تاحال مکمل جنگ بندی نہیں کہہ سکتے۔ جنگ بندی تب تک ممکن نہیں جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو، جب تک غزہ میں دوبارہ استحکام نہ آئے، لوگ آزادانہ اندر باہر نہ جا سکیں جو کہ اس وقت ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے اگلے مراحل سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جس کا مقصد فلسطینی علاقے میں 2 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت قائم کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس کرے گا اور اسے ایک عالمی سیکیورٹی فورس کی حمایت حاصل ہو گی۔ بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تشکیل اور اس کے اختیارات پر اتفاق رائے خاص طور پر مشکل ثابت ہوا ہے۔
جمعرات کو ایک اسرائیلی وفد نے قاہرہ میں ثالثوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں غزہ میں موجود آخری مغوی کی فوری رہائی پر بات چیت ہوئی، جو ٹرمپ منصوبے کے اہم ابتدائی حصے کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔
جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے حماس اب تک 20 زندہ مغویوں اور 27 لاشوں کو واپس کر چکا ہے، جس کے بدلے میں قریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کو چھوڑا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی، قطری وزیراعظم کا ردعمل آگیا
10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے تشدد میں واضح کمی آئی ہے، تاہم اسرائیل نے غزہ میں حملے اور وہ کارروائیاں جاری رکھی ہیں جنہیں وہ حماس کا انفراسٹرکچر قرار دیتا ہے۔
حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر امریکی حمایت یافتہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔













