گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور کو بند کرنے سے پی ٹی آئی کے بانی کی سزا میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور اڈیالہ جیل میں قید افراد اپنی سزا مکمل کیے بغیر نہیں رہائی پا سکتے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں وی وی آئی پی قیدی کی حیثیت میں ہیں، اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ وہ سلوک ہو جو ان کی خواہش تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کتنا قریب ہے؟ فیصل کریم کنڈی نے بتا دیا
فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا میں گورننس کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنے کے بجائے اپنے صوبے میں ہی مسائل حل کرنے چاہییں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی موجودگی کی وجہ سے اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی کہ انہیں کہیں اور منتقل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کیا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے سے ہٹایا جارہا ہے؟
گورنر خیبر پختونخوا نے سیاسی انتقام کے حوالے سے کہا کہ کسی کو بھی سیاسی بنیادوں پر نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی میں ’امپورٹڈ اپوزیشن‘ لانے کا ارادہ ہے، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے سوال کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں کیا کہتے تھے۔













