9 مئی کے پرتشدد واقعات میں براہِ راست ملوث افراد اور ان کی ترغیب دینے والوں کے خلاف احتسابی عمل شروع کردیا گیا ہے، جس کے تحت ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام کسی انتقامی کارروائی کے بجائے انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا 9 مئی واقعات کے پیچھے ’عمران فیض گٹھ جوڑ‘ موجود تھا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اس عمل کی ابتدائی کڑی ہے، جب کہ اصل چیلنج ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہے جنہوں نے منصوبہ بندی کی اور افراتفری کو ہوا دی۔
ذرائع کے مطابق کوئی بھی ریاست اپنے اداروں پر منظم حملوں کو برداشت نہیں کر سکتی، اور قانون شکنی کرنے والوں کو جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پوری قوم کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کے پسِ پردہ موجود نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جائے، تاکہ کارکنوں سے لے کر منصوبہ سازوں تک سب کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس عمل کا مقصد قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانا اور عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق انصاف کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے، جس میں پہلے تشدد پر عملدرآمد کرنے والے، پھر اکسانے والے عناصر اور آئندہ مرحلے میں منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تشدد کسی اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور واضح ہدایات ہوتی ہیں، اور جن عناصر نے 9 مئی کے واقعات کی سمت متعین کی، انہیں قانون کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق مجرموں کو سزا دلوانا احتسابی عمل کا پہلا مرحلہ ہے، جب کہ اصل مقصد ان واقعات کے مبینہ ماسٹر مائنڈز کو سامنے لانا ہے۔
مزید پڑھیں: 9مئی میں ملوث سہیل آفریدی کی عوامی عہدے کے لیے اہلیت سوالیہ نشان ہے، اختیار ولی
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون 9 مئی کے نیٹ ورک کی ہر سطح تک پہنچے گا، خواہ وہ سڑکوں پر موجود عناصر ہوں یا پسِ پردہ فیصلے کرنے والے مراکز ہوں۔
واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے آج بھی 9 مئی کے ایک کیس میں پی ٹی آئی رہنما کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔














