پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وفاقی وزیر علیم خان سے تلخ کلامی کی اصل وجہ بتادی ہے۔
پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا میرا حق تھا۔ جب وہ ایجنڈے میں معاملہ شامل کروایا تو اس پر وفاقی وزیر علیم خان کو جواب دینا پڑا، تو وہ بھڑک اٹھے۔ ان کو برا لگا کہ یہ کیوں پوچھا گیا۔ علیم خان سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایماندار آدمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ذات پر حملہ ہوگا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘، علیم خان اور سینیٹر پلوشہ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی سڑک بن گئی ہے جس پر پاکستان کے لوگوں نے اپنا پیسہ لگایا ہے۔ اگر کوئی سوسائٹی اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے تو ہم کیوں نہ ان سے سوال کریں؟ جس پر علیم خان بھڑک اٹھے۔
سینیٹر پلوشہ خان اور وزیر مواصلات علیم خان میں سینیٹ کی کمیٹی میں شدید الفاظ کا تبادلہ۔ دیکھتے ہیں کتنے ٹی وی چینلز اس تنازعے کو کوریج دیتے ہیں۔ pic.twitter.com/QT8AMcbFQr
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) December 19, 2025
ان کا کہنا تھا کہ وہ روڈ 10 کلو میٹر کے فاصلے سے اسی ہاؤسنگ سوسائٹی سے جا کر ملتی ہے۔ علیم خان نے کہا کہ آپ سب بے ایمان اور بلیک میلر اکٹھے ہو کر ہم سے سوال کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا حوالہ دیا کہ کسی نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اس وزارت کو سوسائٹی کی طرح چلا رہے ہیں، وہ غصے میں یہاں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ پی پی کشیدگی: سینیٹر پلوشہ خان نے شہباز شریف اور مریم نواز کو نشانے پر رکھ لیا
پلوشہ خان نے کہا کہ شہباز شریف کی کابینہ کے ممبران کا یہ رویہ ہے، ایسے لوگ جن کی پارٹی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کی ہے اور وہ کہاں سے آئے ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کسی ایسوسی ایشن کی بنیاد پر ہمیں دھمکائیں گے اور ہم ڈر جائیں گے اور ہم اپنے سوال کرنے کے حق سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ وزیر مواصلات علیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان کمیٹی اجلاس کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘قرض اتارو ملک سنوارو’ ایک اسکیم تھی جسکا مقدر تاریخی ناکامی ٹھہرا، سینیٹر پلوشہ کی حکومت پر تنقید
ویڈیو میں علیم خان کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جیسا ٹریٹ کیا جائے گا، ہم ویسا ہی جواب دیں گے۔ اگر ہماری ذات پر بات کی جائے گی تو ہم بھی اسی سطح پر جواب دیں گے۔ ہم نے تو اپنا موقف واضح کر دیا ہے لیکن جب ان کی ذات پر بات آئے گی تو ان کے پاس جواب نہیں ہوگا۔ تاہم ہم اس سطح پر گرنا نہیں چاہتے جس پر وہ گر رہے ہیں۔













