اڈیالہ جیل راولپنڈی کی عدالت نے توشہ خانہ 2 کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی بیوی بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ سنایا۔ عدالت نے دونوں پر کرپشن، تحائف کی غیر قانونی منتقلی اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کو ثابت قرار دیا۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی کی عدالت نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10-10 سال ایک دفعہ اور 7-7 سال ایک دفعہ قید کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں دونوں کو مجموعی طور پر 17-17 سال قید کی سزا دی گئی۔ عدالت نے دونوں پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

عمران خان کو دفعہ 409 کے تحت 10 سال اور دفعہ 5/2/47 انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ دونوں پر دفعہ 402 کے تحت سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ مقدمے میں مجموعی طور پر 21 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں سے 18 گواہان نے اہم شواہد پیش کیے۔
عدالت نے تمام ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے کرپشن اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال میں حصہ لیا۔
Tosha Khan Case2, Imran Khan, Bushra bibi by Muhammad Nisar Khan Soduzai
واضح رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنایا، اس موقع پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا میں سے ملزمان کے وکیل ارشد تبریز بھی عدالت میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ ٹو کیس میں اہم پیشرفت، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے 342 کے بیان عدالت میں جمع
ماہر قانون حافظ احسان کے مطابق، یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب سعودی عرب سے پاکستانی حکام کو تحائف موصول ہوئے، جنہیں 2018 کے رولز کے مطابق متعلقہ محکموں میں جمع کرانا لازمی تھا۔ سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی نے تحائف کو درست طریقے سے رجسٹرڈ نہ کروایا اور ڈپٹی ملٹی سیکریٹریوں کے خطوط کے ذریعے غیر قانونی طریقہ اپنایا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ تحائف کی اصل مالیت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ یورو (پاکستانی روپیز میں تقریباً 71.5 کروڑ) تھی، لیکن اسے کم ظاہر کیا گیا اور قانونی طریقہ کار کے برعکس ڈپازٹ کیا گیا۔ پروسیکیوشن کے مطابق، اس عمل کے ذریعے سرکاری اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا اور تحائف کی قیمت میں جان بوجھ کر کمی کی گئی۔
عدالتی کارروائی اور تحقیقات
نیب نے 2022 میں اگست میں اس معاملے میں ریفرنس دائر کیا، جو بعد ازاں اکاؤنٹبلٹی کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ بعد ازاں، 2020 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیسز سپیشل ڈیتھ کسٹمز کی طرف منتقل ہوئے۔ تحقیقات کے دوران یہ واضح ہوا کہ تحائف کی ویلیو جان بوجھ کر کم ظاہر کی گئی، اور پاکستانی ہائی کمیشن کی رپورٹس کے مطابق اصل مالیت 3 لاکھ 80 ہزار یورو تھی، جس کو 58 لاکھ روپے کے اندر ظاہر کیا گیا اور 29 لاکھ روپے جمع کروائے گئے۔

ماہرین قانون کے مطابق، بطور فارمر پرائم منسٹر، عمران خان کی جانب سے یہ اقدامات آئینی اور قانونی لحاظ سے ناقابل قبول تھے۔ عدالت نے تمام ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی نے کرپشن اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال میں حصہ لیا۔
عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10-10 سال ایک دفعہ اور 7-7 سال ایک دفعہ قید کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں دونوں کو مجموعی طور پر 17-17 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عمران خان کو دفعہ 409 کے تحت 10 سال اور دفعہ 5/2/47 انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
17 سال قید کا آغاز 190 ملین پاؤنڈ کی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد ہوگا، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سنائی گئی سزا 190 ملین پاؤنڈ کی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔
عطا تارڑ نے بیان میں کہا کہ 14 سال کی سزا ختم ہونے کے بعد 17 سال کی قید کا آغاز ہوگا۔
میڈیا پورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ فراڈ کے ذریعے تحائف کی قیمت کم لگائی گئی، جس سے اسٹیٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا اور تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے تحائف روک کر مالی فائدہ حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 3 کروڑ اور 7 کروڑ روپے کے نقصان کے الزامات کے تحت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10 سال اور 7 سال کی الگ الگ سزا سنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت 7 سال قید کی سزا بھی سنائی، جس کے بعد مجموعی طور پر دونوں پر 17، 17 سال کی قید اور 1 کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
توشہ خانہ کیس ٹو: دوسروں کو چور کہنے والے خود ہی ڈاکے مارتے رہے، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے انصاف فراہم کیا اور فیصلہ شواہد کی بنیاد پر دیا گیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ قوم کو مسلسل یہ بتایا جاتا رہا کہ دوسروں پر کس قسم کے الزامات ہیں، لوگوں کو چور اور ڈاکو کہا جاتا رہا، جبکہ اصل میں وہی لوگ ڈاکے مارتے رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات دستاویزی شواہد پر مبنی ہے، اور عدالت نے تمام شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔ مشیر نے کہا کہ جن لوگوں نے انٹریز اور انڈر ویلیو کی، ان کے بیانات بھی سامنے ہیں، لیکن یہ سب دستاویزی ثبوت کے مطابق ہے اور عدالت نے انصاف پوری طرح فراہم کیا۔
توشہ خانہ کیس ٹو کا فیصلہ شواہد اور قانونی اصولوں کے مطابق آیا ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل
توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے کہا کہ 2018 کے رولز کے مطابق توشہ خانہ کے تحائف کی وصولی اور ریکارڈنگ کے عمل پر مکمل قانونی طریقہ کار اپنایا جانا ضروری تھا۔
وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے کہا کہ توشہ خانہ گفٹس کے حوالے سے تمام تر کارروائیاں 2018 کے رولز کے مطابق ہونی چاہئیں تھیں اور یہ رولز بالکل واضح اور ایکسیپٹو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں تمام گواہان کے بیانات اور شواہد سامنے رکھے گئے، اور ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ برانڈڈ جیولری سیٹ کی مارکیٹ ویلیو بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق معلوم کی گئی، جس کی مالیت تقریبا 32 سے 33 کروڑ روپے تھی، جس کو خان صاحب نے قانونی اور آئینی اصولوں کے مطابق ڈپازٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ عدالت نے تمام شواہد اور قانونی اصولوں کے مطابق فیصلہ دیا اور بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی۔ ایک سب سے دلچسپ بات میں آپ کو بتاؤں، باقاعدہ طور پر ایک پروسیجر اپنایا گیا، جو میجر لیگل اسسٹنٹ کے پروسیجر کے مطابق ہوتا ہے، کہ جس کمپنی یا برانڈ کی وہ جیولری سیٹ تھی، اس کی مارکیٹ ویلیو پوچھی گئی۔ جب وہ بتائی گئی تو اس میں تقریباً 32 سے 35 کروڑ روپے کا ٹیکہ تھا، جس کو خان صاحب نے قانونی طریقہ کار کے مطابق ڈپازٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ قانون کے مطابق فیصلہ دیا گیا، جو آئینی طور پر درست ہے۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ یہ خوش آئین فیصلہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ وہ جماعت جو کرپشن کے خلاف نعرہ لے کر پاکستان میں آئی تھی، اور 14 سال سے ایک صوبے میں اقتدار میں رہی، وہاں احتساب کمیشن کو تالے لگا رکھے تھے۔ اس کی سیاست کا محور کرپشن تھا، چاہے ہسپتال ہو یا کوئی اور ادارہ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ ایک پرائم منسٹر نے اپنے ایکس چیکر اور مس کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں کو چکمہ دے کر ایسی جیولری کو سستے داموں میں فروخت کیا، جو سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے دی گئی تھی۔
توشہ خانہ کیس ٹو: سنگین نوعیت کے مقدمے میں کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، مصطفیٰ کمال
وزیر صحت مصطفی کمال نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس ٹو میں کی گئی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور کیس سنگین نوعیت کا تھا۔ عدالتوں کی جانب سے 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی شامل ہیں۔
نجی ٹیلیویژن پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ اس فیصلے میں کئی سالوں سے جمع شدہ شواہد، ویڈیوز اور آڈیوز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی چیز خود کے استعمال کے لیے رکھی جاتی ہے، تو اسے کسی اور کو بیچ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے اور ملک کے لیے سنگین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب غلط کام ہوئے، لیکن یہ صورتحال پہلے کبھی اتنی واضح اور عام نہیں ہوئی تھی۔

وزیر صحت نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے ناراض ہونے کے پیچھے یہ بات سامنے آئی کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت کنٹرول کیا گیا، اور بعد میں ثابت ہوا کہ کچھ کارروائیاں مخصوص ذرائع کے ذریعے کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ یہ دکھاتا ہے کہ ریاست کے سربراہ یا وزیراعظم کے گھر میں ہونے والے اقدامات کی پوری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
مصطفی کمال نے مزید کہا کہ اگر عمران خان صاحب نے یا تو اپنی مرضی سے یہ کام کیا، یا ان کے گھر سے یہ کام ہو رہا تھا، تو بھی ذمہ داری ان کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے ناطے کسی بھی کمزوری یا لاپرواہی کے لیے انہیں بلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ عام شہری نہیں تھے، بلکہ پاکستان کے وزیراعظم تھے۔
عدالتی فیصلہ عمران خان کو صادق امین کہنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، اعظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن قوم کے لیے ایک تکلیف اور شرمندگی کا دن ہے کیونکہ سیاست کے نام پر دوسروں کو چور اور ڈاکو کہہ کر ایسے لوگ اقتدار تک پہنچے، جن کا مقصد سیاست کرنا نہیں بلکہ ہیرے اور پیسے اکٹھے کرنا تھا۔
نجی ٹیلیویژن سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے، جو ایسے شخص کو صادق اور امین کہتے رہے اور جھوٹے فیک ڈاکومنٹس کے ذریعے اس کا ٹیگ لگاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ توشہ خانہ کے تحائف کے لیے 50 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی، لیکن تحائف کی قیمت انڈر انوائسنگ کر کے 58 لاکھ روپے لگائی گئی، جب کہ اصل قیمت 7 کروڑ روپے تھی، جو بددیانتی کی واضح مثال ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بھی اعتراف کیا کہ توشہ خانہ سے آنے والے تحائف کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا اور وہ خاموشی سے اندر پہنچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں نے ہمیشہ الزام لگایا، لیکن آج عدالت نے واضح کیا کہ ان پر کچھ ثابت نہیں ہوا اور انصاف کا بول بالا ہوا۔














