توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے کہا کہ 2018 کے رولز کے مطابق توشہ خانہ کے تحائف کی وصولی اور ریکارڈنگ کے عمل پر مکمل قانونی طریقہ کار اپنایا جانا ضروری تھا۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے کہا کہ توشہ خانہ گفٹس کے حوالے سے تمام تر کارروائیاں 2018 کے رولز کے مطابق ہونی چاہئیں تھیں اور یہ رولز بالکل واضح اور ایکسیپٹو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں تمام گواہان کے بیانات اور شواہد سامنے رکھے گئے، اور ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ برانڈڈ جیولری سیٹ کی مارکیٹ ویلیو بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق معلوم کی گئی، جس کی مالیت تقریبا 32 سے 33 کروڑ روپے تھی، جس کو خان صاحب نے قانونی اور آئینی اصولوں کے مطابق ڈپازٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ عدالت نے تمام شواہد اور قانونی اصولوں کے مطابق فیصلہ دیا اور بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی۔ ایک سب سے دلچسپ بات میں آپ کو بتاؤں، باقاعدہ طور پر ایک پروسیجر اپنایا گیا، جو میجر لیگل اسسٹنٹ کے پروسیجر کے مطابق ہوتا ہے، کہ جس کمپنی یا برانڈ کی وہ جیولری سیٹ تھی، اس کی مارکیٹ ویلیو پوچھی گئی۔ جب وہ بتائی گئی تو اس میں تقریباً 32 سے 35 کروڑ روپے کا ٹیکہ تھا، جس کو خان صاحب نے قانونی طریقہ کار کے مطابق ڈپازٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ قانون کے مطابق فیصلہ دیا گیا، جو آئینی طور پر درست ہے۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ یہ خوش آئین فیصلہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ وہ جماعت جو کرپشن کے خلاف نعرہ لے کر پاکستان میں آئی تھی، اور 14 سال سے ایک صوبے میں اقتدار میں رہی، وہاں احتساب کمیشن کو تالے لگا رکھے تھے۔ اس کی سیاست کا محور کرپشن تھا، چاہے ہسپتال ہو یا کوئی اور ادارہ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ ایک پرائم منسٹر نے اپنے ایکس چیکر اور مس کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں کو چکمہ دے کر ایسی جیولری کو سستے داموں میں فروخت کیا، جو سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے دی گئی تھی۔














