وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ریاست کے عوام جن مسائل کو لے کر سڑکوں پر آئے وہ کوئی اڑھائی سال کے مسائل نہیں تھے بلکہ 70 سالوں کے مسائل ہیں، تاہم اب عوام سڑکوں پر اس لیے آئے کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے لیے اب بات کرنے والا کوئی موجود نہیں، ہم نے آتے ہی عام آدمی کی بات سنی ہے، لوگوں نے سمجھا کہ یہ صرف ایم ایل ایز کی حکومت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل ممتاز راٹھور کا مظفرآباد کا تفصیلی دورہ، سرکاری منصوبوں کا جائزہ لیا
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہیجانی اور بے یقینی کی ایسی کیفیت تھی کہ صرف یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب ماسوائے فلسفے کے اور کوئی بات نہیں ہوگی، ماسوائے نظام کو ٹھیک کرنے کے اب کوئی راستہ نہیں رہا۔ جن مسائل پر لوگ سڑکوں پر نکلے وہ اڑھائی سال کے مسائل نہیں تھے بلکہ یہ مسائل 70 سال سے چلے آ رہے تھے، لیکن کیا وجہ تھی کہ 70 سال کے مسائل لوگوں کو 2 سال میں یاد آ گئے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ مسائل 2 سالوں میں اس لیے سامنے آئے کہ لوگوں کو محسوس ہوا کہ ان کے لیے جو لوگ بات کیا کرتے تھے وہ اب موجود نہیں ہیں، ان کے اوپر اب کوئی سیاسی جماعت کا لیبل بھی نہیں رہا، کوئی اس حکومت کی آنرشپ نہیں لے رہی، ورکرز سیاسی پارٹیوں سے علیحدہ ہو گئے، پھر میڈیا، سوشل میڈیا، کوئی ایک ایسا طبقہ نہیں تھا جو اس حکومت کی آنرشپ لینے کو تیار ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر بے یقینی اور مایوسی بڑھتی گئی اور ہم ایک ایسی بند گلی کی طرف جا چکے تھے کہ اگر اس کو روکا نہ جاتا تو اس کا انجام ریاست کسی ایسے موڑ پر بھگتتی کہ جس نظام کو لانے میں ہمارے بزرگوں نے اپنی زندگیاں صرف کر دیں، وہ کسی دوسرے پس منظر کی طرف جا سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت میں آتے ہی وہ بات کی جو ایک عام آدمی کی بات تھی، ایک اسکیل کے ملازم کو مستقل کیا، ایک ڈرائیور کے اسکیل کو بڑھایا، عام چھوٹے لوگ جو یہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی سننے والا کوئی نہیں، ہم نے ان کی بات سنی، وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عام آدمی کے لیے کھلے ہیں۔














