امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اسرائیلی فورسز کو علاقے سے باہر نکالنا ہوگا، فلسطین میں جاری ظلم و جارحیت نے پوری دنیا کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے، یہودیوں نے مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ جما رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ’بدل دو نظام‘ تحریک کا اعلان، حافظ نعیم الرحمان کا اجتماع عام سے اختتامی خطاب
اسلام آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل لیڈرشپ سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے تمام غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور نوجوانوں کو امت مسلمہ کا مستقبل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنریشن زی نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور شعور اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج پوری دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ انصاف کیسے حاصل کیا جائے گا، جبکہ چند طاقتور عناصر نے عالمی آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے نمائندوں نے شرکت کی، مگر اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحت کام کر رہی ہے اور عالمی نظام چند طاقتوں کے فائدے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا حافظ نعیم الرحمان کو ٹیلیفون، سینیٹر مشتاق سمیت اسرائیلی حراست میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی پر گفتگو
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ میں امن کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں کھلے عام ظلم کیا جا رہا ہے اور عالمی برادری کو حماس کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ انہی عالمی طاقتوں کی پیداوار ہے جنہوں نے آج خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صہیونیوں کا خواب گریٹر اسرائیل، مسلمان خاموش رہے تو کوئی محفوظ نہیں رہےگا، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے اور وہ مسلسل عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں حقیقی امن کے لیے واحد راستہ اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا ہے۔














