وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس 2 اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، فیصلہ آنے میں 2 سال لگ گئے، عمران خان کی نئی سزا پرانی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2 میں سزا: عمران خان کو اب تک کون سے مقدمات میں کتنی قید ہوچکی ہے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے دیانتداری کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، اب ان کے لیے گڈ ٹو سی یو والا معاملہ نہیں رہا۔ دنیا میں ایسے کیسز کے فیصلے مہینوں میں ہو جاتے ہیں، ہمارے ہاں سال لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کیسز اور عمران خان کے خلاف کیسز پچھلے 2، 2.5 سالوں سے چل رہے تھے۔ 9 مئی جیسے کیسز کا فیصلہ چند مہینوں میں آجاتا ہے، ہمارے ہاں 2 سال لگ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
عطاتارڑ نے کہا کہ کسی وزیراعظم کو اگر تحائف دیے جاتے ہیں تو یہ انفرادی حیثیت میں نہیں دیے جاتے، یہ ایک ریاست دوسری ریاست کو دیتی ہے، اس تحفے کو آپ بیچ دیں یا کم قیمت لگا کر اپنے پاس رکھ لیں اور سرکاری خزانے میں جو کروڑوں روپے جمع ہونا تھے وہ نہ ہوں تو یہ کرمنل کیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ ون کیس میں خانہ کعبہ والی منفرد گھڑی بیچ کے کھا گئے، توشہ خانہ کیس 2 میں کروڑوں کے سیٹ کی قیمت لاکھوں میں لگائی اور کروڑوں روپے جو سرکاری خزانے میں جمع ہونے تھے وہ نہیں جمع ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دے دیا
ان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس 2 میں سزا باقی کیسز کی سزاؤں کے ساتھ چلے گی، اگر یہ نہیں لکھا تو قانونی طور پر ان کی سزا پچھلی سزائیں ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔














