چین میں ایک حیرت انگیز اور سنسنی خیز واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک نوجوان ویڈیو گیمر تقریباً دو سال تک ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں مقیم رہا، وہاں سے کبھی باہر نہیں نکلا، اور روزانہ اپنا کھانا صرف ڈیلیوری ایپس کے ذریعے منگواتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں:چین : کنسرٹ میں گلوکار کے ساتھ ناچتے روبوٹس نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
یہ واقعہ ملک کے شمال مشرقی شہر چانگ چن میں واقع ایک ’ای اسپورٹس ہوٹل‘ میں پیش آیا، جہاں ہوٹل انتظامیہ کے مطابق نوجوان صرف گیم کھیلنے کے لیے کمرہ کرائے پر لیتے ہیں، مگر اس شخص نے کمرہ ایک عارضی گھر میں تبدیل کر دیا۔
2 سال بعد جب اس نے اچانک چیک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہوٹل کے عملے نے اندر قدم رکھا تو منظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کمرے کے اندر جگہ جگہ کچرے کے بلند و بالا ڈھیر پائے گئے، کچھ ڈھیر تو اتنے اونچے تھے کہ میز اور کرسی مکمل طور پر غائب ہو چکے تھے۔

کمرے میں پھینکے گئے سینکڑوں فوڈ پیکٹس، خالی بوتلیں، کھانے کے ڈبے، پلاسٹک بیگز، ٹشو رولز، گندے کپ اور فاسٹ فوڈ پیکنگ وغیرہ مل کر تقریباً ایک میٹر اونچا پہاڑ بن چکی تھیں۔
ہوٹل انتظامیہ کے مطابق کمرہ انسانی رہائش کے بجائے ’کچرے کا ڈھیر‘ محسوس ہو رہا تھا۔ صفائی عملے کو کمرہ مکمل صاف کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے، اور انتظامیہ کو بدبو ختم کرنے کے لیے خصوصی کیمیکل استعمال کرنا پڑا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد چین بھر میں ’گیمنگ ایڈکشن‘ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ صارفین کے مطابق اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آن لائن دنیا کی لت کس طرح انسان کو سماجی زندگی سے دور کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین میں ڈاکٹروں کا طبی کمال: کٹا ہوا کان عارضی طور پر پاؤں سے جوڑ کر بچا لیا گیا
ہوٹل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایسی صورتحال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انتظامیہ کے مطابق ہم نے گندگی تو دیکھی تھی، مگر اس قدر؟ یہ کمرہ کسی ہارر فلم کا منظر لگ رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ویڈیو گیمز کی عادت اگر حد سے بڑھ جائے انسان کو ذہنی خرابی، سماجی تنہائی اور جسمانی کمزوریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔













