عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ہونے والی گزشتہ ملاقات میں عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ ’ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی سے استعفے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ نہیں مانیں گے، شاندانہ گلزار

وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی کسی بھی ریاستی ادارے، فوج یا شہدا سے کوئی لڑائی نہیں بلکہ جدوجہد ان چند افراد کے خلاف ہے جو بیرونی دباؤ پر پاکستان کے مفادات کے خلاف فیصلے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو کیا ضرورت تھی یہ کہنے کی ہم ن لیگ یا پیپلزپارٹی سے بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران ریاض یوٹیوبر نہیں ہیں، وہ میرے بھائی ہیں، ان کے ساتھ 3 ماہ بہت ظلم ہوا حالانکہ وہ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں بلکہ آزاد صحافی تھے جو لوگ یوٹیوب یا سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کما کر خود کو عمران خان کا نمائندہ کہتے ہیں، وہ درحقیقت پی ٹی آئی کے نمائندے نہیں۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ سے پاکستان کے اداروں کا احترام کرتی آئی ہے۔

مزید پڑھیے: ’ججز کی ایسی کی تیسی، عوام ان کے گھروں میں گھس جائیں گے‘ شاندانہ گلزار کی ججز کو سرِ عام دھمکی

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یوٹیوبرز یا نامعلوم افراد سے بات کرنے کے بیان پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ہر شخص خود کو کسی کا نمائندہ ظاہر کر سکتا ہے اس لیے کسی بھی فرد کی نمائندگی تسلیم کرنے سے پہلے اس کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ یوٹیوب یا سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کما کر خود کو عمران خان کا نمائندہ کہتے ہیں، وہ درحقیقت پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کرتے۔

شاندانہ گلزار کے مطابق حقیقی کارکن وہ ہیں جو بغیر کسی مالی مفاد کے عمران خان اور پاکستان کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جیل میں عمران خان سے آخری ملاقات میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی معاف کرنے کو تیار ہیں جنہوں نے ان کے خلاف سازشیں کیں بشرطیکہ مذاکرات کا مرکز صرف اور صرف پاکستان کی بہتری ہو۔

’عمران خان کی لڑائی ادارے سے نہیں مخصوص افراد سے ہے‘

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی لڑائی کسی ادارے سے نہیں بلکہ ان افراد سے ہے جنہوں نے امریکا یا عالمی طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کبھی فوج، پولیس یا شہدا کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے صحافی عمران ریاض خان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران ریاض ایک آزاد صحافی ہیں، وہ پی ٹی آئی کے رکن نہیں تھے اور ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک ہوا وہ ناقابل قبول ہے۔

’عمران خان کا نام لینے پر پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کمزور نہیں‘

شاندانہ گلزار نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان اتنے ہی کمزور ہیں تو پھر ان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جیل میں بیٹھ کر بھی کسی کے لیے خطرہ نہیں لیکن اس کے باوجود ان کا نام لینے، ویڈیوز دکھانے اور بیانات نشر کرنے پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصل خوف موجود ہے۔

انہوں نے 9 مئی اور 8 فروری کے واقعات پر آزاد تحقیقات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے صرف شفاف انکوائری اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کی بات کی تھی لیکن یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا گیا۔

’پی ٹی آئی رہنما و کارکن مائنس ون فارمولا نہیں مانیں گے‘

شاندانہ گلزار نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی ’مائنس ون‘ فارمولے کو قبول نہیں کرے گی۔

ان کے مطابق پارٹی عمران خان کے بغیر نامکمل ہے اور کارکن کسی ایسے حل کو نہیں مانیں گے جس میں عمران خان کو سیاست سے باہر رکھا جائے۔

مزید پڑھیں: ‘شہباز شریف کا اپنا مینڈیٹ ہی نہیں، وہ مذاکرات کیا کریں گے،شاندانہ گلزار

ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟