بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی بھارت سے بڑھتی ناراضگی اور سِلہٹ سرحد پر 2 بنگلہ دیشی نوجوانوں کے بھارتی خاصیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے واقعات نے سرحدی اور سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی تازہ پارلیمانی رپورٹ کے مطابق ملک میں پاکستان اور چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جبکہ بنگلہ دیشی نوجوان بھارت کے رویے سے ناخوش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: طلبا تحریک کے شہید رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت
سرحد پر خونریزی
جمعہ کو سِلہٹ کے کمپانی گنج اپزیلہ میں ڈمڈما بارڈر پر 2 نوجوان بنگلہ دیشیوں کو بھارت کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاک شدگان کی شناخت عاشق الرحمان (19 سال)، اور مصعید علی (22 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ عاشق الرحمان لکڑیاں جمع کرنے کے دوران بھارت کی حدود میں تقریباً 600 گز کے فاصلے پر گولی ماری گئی، جبکہ مصعید علی کو رادان علاقے کے قریب ہلاک کیا گیا۔

کمپانی گنج پولیس کے انچارج شفیق الاسلام نے تصدیق کی کہ دونوں نوجوان بھارتی سرحد پار سے گولیوں کا شکار ہوئے۔ عاشق الرحمان کی لاش واپس بنگلہ دیش لائی گئی جبکہ مصعید کی لاش ابھی بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کے قبضے میں ہے۔
نوجوان نسل کی ناراضگی
بھارتی وزارت خارجہ کی پارلیمانی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل بھارت سے نالاں ہے اور پاکستان و چین کا اثر بڑھ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے اثرات کمزور ہو چکے ہیں اور نوجوان بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
بھارت کے لیے انتباہ
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر بھارت اپنی پالیسیاں درست نہ کرے تو وہ بنگلہ دیش میں اپنا اثر کھو سکتا ہے اور پاکستان و چین کا اثر مزید بڑھ جائے گا۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے سب سے بڑے اسٹریٹجک بحران کی علامت سمجھی جا رہی ہے اور اس کے طویل مدتی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔













