سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ وہ حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ موجودہ وقت میں پاکستان صرف ’عاصم لأ‘ پر چل رہا ہے اور انہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس 2 میں 17 سال قید کی سزا، عدالت میں پی ٹی آئی کے دعوے رد
انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کی بھیجی گئی کتابیں اور ٹی وی تک کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
انہوں نے جیل میں خواتین پر ہونے والے سلوک پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ عمران خان نے اڈیالہ جیل کے باہر خواتین کے ساتھ ہونے والے رویے پر گہرا دکھ اور افسوس بھی ظاہر کیا۔
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔…
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) December 20, 2025
سابق وزیراعظم نے ججوں کی جانب سے توشہ خانہ 2 کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بغیر ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سنایا گیا۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے وکلا اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے اور ملک میں قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
عمران خان نے اپنے ٹوئیٹ میں عوام کو بھی اپنے حقوق کے لیے اٹھنے کی اپیل کی اور کہا کہ جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔














