اٹلی نے ایپ اسٹور کے ذریعے اپنی بالادستی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپ ڈویلپرز پر غیر منصفانہ دباؤ ڈالنے کے الزام میں ایپل پر 98 ملین یورو جرمانہ عائد کیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق، ایپل نے اپنی ایپ ٹریکنگ پالیسی پالیسی کے تحت ایپ ڈویلپرز کو صارفین سے اضافی رضامندی لینے پر مجبور کیا، جو کہ پرائیویسی قوانین کی ضرورت سے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ایپ ڈویلپرز کے اشتہاری کاروباری ماڈلز متاثر ہوئے، جبکہ صارفین کے لیے فراہم ہونے والے پرائیویسی فوائد مناسب نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
اتھارٹی نے کہا کہ ایپ ٹریکنگ پالیسی کے اصولوں میں غیر تناسبی عنصر موجود ہے، کیونکہ ایپل کو ایک ہی مرحلے میں صارف کی رضامندی حاصل کرنے کا اختیار فراہم کرنا چاہیے تھا، تاکہ صارف کی پرائیویسی کے وہی فوائد حاصل ہوں۔
یہ فیصلہ یورپی کمیشن اور اٹلی کے ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیٹر کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا۔
یاد رہے کہ مارچ میں فرانس کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی نے بھی ایپل پر 150 ملین یورو جرمانہ عائد کیا تھا، اس کا الزام تھا کہ ایپ ٹریکنگ پالیسی ایپ ڈویلپرز پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے اور صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے لازمی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایپل نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے والی ایپ ہٹا دی
ایپل کی 2021 میں متعارف کرائی گئی اس پالیسی کے تحت ایپ اسٹور سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والی ایپس کو صارف سے واضح اجازت لینا ضروری ہے۔ اگر صارف اجازت نہیں دیتا، تو ڈویلپرز کو ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے ضروری ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
یورپی اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ اس نظام سے تیسرے فریق کے ڈویلپرز اور اشتہاری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ایپل خود اپنے اشتہاری کاروبار سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔














